کمبوڈیا کے شہر پوئپیٹ میں قائم ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے سرمایہ کاری دھوکا دہی، جعلی ملازمتوں، جعلی آن لائن جوئے اور محبت کے نام پر فراڈ سمیت مختلف جرائم کو ایک ساتھ چلایا۔
مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنی نے اس نیٹ ورک سے منسلک متعدد اکاؤنٹس بند کردیے جب کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے واٹس ایپ کی انتظامیہ کے ساتھ بھی تعاون کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فراڈ نیٹ ورک جنوب مشرقی ایشیا سے چلایا جا رہا تھا، جہاں جرائم پیشہ گروہ لوگوں کو جعلی ملازمتوں کے جھانسے دے کر کمبوڈیا بلاتے اور بعد میں انہیں غیر انسانی حالات میں فراڈ پر مجبور کرتے تھے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی خطے میں انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت سے جڑے ایسے جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض بند کیے گئے اکاؤنٹس سے ایسا مواد بھی ملا جو ممکنہ طور پر افراد کو ان فراڈ مراکز تک لانے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق فراڈ گروہ مصنوعی ذہانت کو تقریباً اپنے ہر کام کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ ملزمان جعلی شناختیں، فرضی کاروباری ماہرین، جعلی سرمایہ کاری مشیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کے روپ میں کردار تیار کرتے تھے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے متاثرین کو بھیجے جانے والے پیغامات تیار کیے جاتے، مختلف زبانوں میں ترجمے کیے جاتے، جعلی دستاویزات بنائی جاتی تھیں جن میں پاسپورٹ، قانونی نوٹس، سرمایہ کاری کی رسیدیں اور جعلی آن لائن پلیٹ فارم شامل تھے۔
فراڈ گروہ نے جعلی ملازمتوں کے اشتہارات بھی تیار کیے جن میں بنگلادیش اور بھارت کے افراد کو ماہانہ تنخواہ، سفری سہولت، رہائش اور دیگر مراعات کا جھانسہ دیا جاتا تھا۔ بعد میں انہیں ایسے مراکز میں پہنچا کر فراڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فراڈ کا طریقہ کار تین مراحل پر مبنی تھا۔ پہلے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کیا جاتا، پھر جعلی شناخت کے ذریعے اعتماد قائم کیا جاتا اور آخر میں انہیں رقم جمع کرانے، فیس ادا کرنے یا فرضی جرمانے بھرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
اس نیٹ ورک میں محبت کے نام پر دھوکا دہی، کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری، سونے کی خرید و فروخت کے جعلی منصوبے، جعلی جوئے کے انعامات اور سرکاری اہلکار بن کر رقم طلب کرنے جیسے طریقے شامل تھے۔
مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی کے مطابق اس فراڈ سے ہونے والے مجموعی مالی نقصان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تاہم ملزمان کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ متعدد افراد سے ہزاروں ڈالر بٹورے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں کام کو آسان بنارہی ہے، وہیں جرائم پیشہ عناصر اسے بڑے پیمانے پر فراڈ کے لیے بھی استعمال کرنے لگے ہیں جس سے سائبر جرائم کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔




















