امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا گزشتہ روز ایران پر حملہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا اور تمام تیاری مکمل کرلی گئی تھی تاہم بعد میں مذاکرات کے باعث کارروائی روک دی گئی۔
بال روم کنسٹرکشن سائٹ کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے اپنے بحری جہازوں کو مکمل طور پر تیار کرلیا تھا اور کارروائی شروع ہونے ہی والی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے مشرق وسطیٰ میں بدامنی اور ہراسانی کا سبب بنتا رہا ہے۔ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اس وقت معاہدہ کرنے کے لئے بے تاب ہے اور مذاکرات کی میز پر آچکا ہے۔ ان کے بقول انہیں ایک فون کال موصول ہوئی جس میں درخواست کی گئی کہ کچھ دن مزید انتظار کیا جائے کیونکہ معاہدہ قریب ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاہدے کے لئے محدود وقت دیا جارہا ہے اور وہ صرف دو یا تین دن مزید انتظار کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بڑے حملے بھی ہوسکتے ہیں تاہم انہیں امید ہے کہ صورتحال وہاں تک نہیں پہنچے گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم آگیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا اور پورے مشرق وسطیٰ کے لئے خطرہ بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے یقین دلایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اچھی خبر سامنے آئے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے امریکا اس وقت صحیح لوگوں کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ایران کے ساتھ مذاکرات سے روکنے کی کوشش کررہے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ کیوبا میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق کچھ نہیں جانتے تاہم کیوبا کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چین کے صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بیجنگ ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کررہا جس پر انہوں نے چینی صدر کے مؤقف کو سراہا۔



















