الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مودی نے 2016 میں پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کا اعلان کیا تھا جو بری طرح ناکام ہوا پاکستان آج واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ بیک وقت رابطے میں ہے پاکستان خطے میں تنہائ کی بجاے علاقائی معاملات پر اثرانداز ہونے والا ایک اہم فریق بن چکا ہے۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی حکمت عملی الٹا خود بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے عالمی بیانیے کی جنگ میں برتری حاصل کی عالمی دارالحکومتوں نے پہلگام واقعے پر پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو بغیر ثبوت قبول نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سفارتی اور عسکری کارکردگی نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے ٹرمپ 30 سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے رہے جبکہ نئی دہلی مسلسل اس کی تردید کرتا رہا جنگ بندی کے معاملے پر مودی اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں دراڑ پیدا کی۔
الجزیرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت معرکہ حق کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر تنقید کرتا رہا جبکہ ٹرمپ نے انہیں “غیر معمولی شخصیت” قرار دیاپاکستان اور چین کی “ناقابلِ شکست شراکت داری” خطے میں ایک نئی حقیقت بن چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی جسے بھارت کی علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے دوسری جانب پاکستان خلیجی ممالک کے لیے ایک ابھرتے ہوئے سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر سامنے آ رہا ہے سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون نے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا ہے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور فضائی طاقت میں عالمی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
الجزیرہ کے مطابق مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی، مساجد کی مسماری اور امتیازی اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے معدنیات، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کے ذریعے پاکستان نے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرلی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان آج ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت امریکہ، چین، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مؤثر تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔


















