سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں پیدا ہونے والی بعض تبدیلیوں کو ممکنہ طور پر واپس پلٹایا جاسکتا ہے جس سے بڑھاپے سے متعلق طبی تحقیق میں نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔
اسرائیلی ماہرین نے چوہوں پر کی گئی تحقیق میں دریافت کیا کہ جسم میں موجود ایک خاص پروٹین کی مقدار بڑھانے سے جگر کے خلیات دوبارہ جوان حالت کی طرف لوٹنے لگے۔
ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے اندر موجود جینیاتی نظام کی ترتیب متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایسے جین فعال ہوجاتے ہیں جو سوزش اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جب کہ ضروری جین آہستہ آہستہ غیر فعال ہونے لگتے ہیں۔
تحقیق میں ماہرین نے ایک ایسے پروٹین پر توجہ دی جو عمر میں اضافے کے عمل کو سست کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس پروٹین کی مقدار بڑھانے کے بعد دیکھا گیا کہ بوڑھے چوہوں کے جگر میں جینیاتی ساخت دوبارہ زیادہ منظم اور جوان حالت جیسی ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف جسمانی افعال بہتر ہوئے بلکہ عمر سے جڑی سوزش میں بھی کمی دیکھی گئی۔ حیران کن طور پر یہ اثر صرف بچاؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ پہلے سے بوڑھے چوہوں میں بھی بعض تبدیلیاں واپس پلٹتی دکھائی دیں۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس خیال کو مضبوط کرتے ہیں کہ بڑھاپا مکمل طور پر ناقابلِ واپسی عمل نہیں بلکہ جسم میں کچھ تبدیلیاں لچک رکھتی ہیں اور انہیں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج انسانوں پر لاگو نہیں کیے جاسکتے تاہم اس سے بڑھاپے اور جسمانی کمزوری کے عمل کو سمجھنے میں اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر اسی نوعیت کی تحقیق کامیاب رہی تو عمر بڑھنے سے جڑی بیماریوں، کمزوری اور جسمانی سوزش کو کم کرنے کے نئے طریقے سامنے آسکتے ہیں۔




















