امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے سلسلے میں پاکستانی وفد آج تہران پہنچ رہا ہے جب کہ پاکستان کا ثالثی کردار قابلِ تعریف ہے۔
سویڈن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ کامیاب اور مثبت مذاکرات کا خواہاں ہے، معاہدے کے حوالے سے حوصلہ افزا اشارے موصول ہوئے ہیں اور پیشرفت کے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں جاری ہیں تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فریقین کسی جامع اور قابلِ قبول معاہدے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا لیکن واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی تہران روانگی سے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
مارکو روبیو نے نیٹو سے متعلق گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحاد کے بعض معاملات پر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں اگر امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو صدر ٹرمپ ضروری اقدامات کرنے کے پابند ہوں گے۔
کیوبا اور دیگر عالمی امور پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ توانائی کے شعبے میں ریکارڈ پیداوار حاصل کی جا چکی ہے۔ امریکا ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔




















