ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور پراعتماد پوزیشن سے کر رہا ہے اور حالیہ عسکری کامیابیوں نے تہران کے مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونے والی بات چیت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس بار ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد پر مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر رہے ہیں اور یہی پیش رفت سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتی جب تک اسے قانونی اور سیاسی معاہدوں کی صورت میں محفوظ نہ کیا جائے۔ ایران کی کوشش ہے کہ ان کامیابیوں کو ایسے باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے جو ملک کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اگر جنگی کامیابیوں کو قانونی اور سفارتی دستاویزات میں نہ بدلا جائے تو وقت کے ساتھ ان کے اثرات کمزور ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ حالیہ پیش رفت ملک کے سیاسی، سفارتی اور قومی مفادات کے لیے دیرپا فوائد فراہم کرے۔




















