واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی معاہدہ نہیں اور اگر مستقبل میں ہونے والا حتمی معاہدہ ان کی توقعات کے مطابق نہ ہوا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا ہے، اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی جارہی ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ پیش رفت نہ ہوتی تو دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی معاہدہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے اور اس مرحلے پر امریکی سرمایہ کار ایران میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ہونے والے باضابطہ معاہدے کی شرائط کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر حتمی معاہدہ امریکا کے مفادات اور توقعات کے مطابق نہ ہوا تو دوبارہ سخت اقدامات، بشمول فوجی کارروائی زیر غور آسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی آئندہ پریس کانفرنس میں ایران سے متعلق معاہدے کی مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایران سے متعلق پیش رفت اور امن معاہدے پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ایک جامع اور حتمی معاہدہ طے پا جائے گا جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مکمل معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق بحال ہوجائے گی جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل مزید مستحکم ہوگی۔


















