کراچی: کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے پاکستان رینجرز سندھ کے تعاون سے شہر میں پانی چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے سہراب گوٹھ اور گرد و نواح میں قائم دو غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کردیے جب کہ متعدد غیر مجاز پانی کے کنکشن منقطع کرکے ایک ملزم کو گرفتار بھی کرلیا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق یہ مشترکہ آپریشن ریونیو پروٹیکشن اینڈ انفورسمنٹ سیل اور پاکستان رینجرز سندھ کی 72 ونگ نے حب ٹرنک مین ڈویژن کے مختلف علاقوں میں انجام دیا۔
کارروائی کے دوران ایوب گوٹھ میں قائم ایک غیر قانونی ہائیڈرنٹ کو مسمار کیا گیا جو مبینہ طور پر سلمان نامی شخص چلا رہا تھا۔ حکام نے وہاں موجود تمام غیر قانونی پانی کے کنکشن منقطع کرکے مقام کو سیل کردیا جب کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
آپریشن کے دوران ایک 30 کے وی اے جنریٹر، 10 ہارس پاور سبمرسبل پمپ، دو الیکٹریکل کنٹرول بورڈز اور مختلف سائز کی پائپ لائنیں بھی قبضے میں لے لی گئیں جنہیں غیر قانونی طور پر پانی نکالنے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
اسی علاقے میں ایک اور کارروائی کے دوران عمران نامی شخص سے منسوب غیر قانونی ہائیڈرنٹ کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ حکام نے وہاں نصب غیر قانونی کنویں اور پانی کے کنکشن ختم کردیے جب کہ پمپنگ مشینری، برقی آلات اور پائپ لائن کا سامان بھی ضبط کرلیا گیا۔
آپریشن کے دوران شہر کی مرکزی پانی فراہمی لائنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ احسن آباد میں 84 انچ قطر کی مرکزی واٹر سپلائی لائن سے کیے گئے پانچ غیر قانونی کنکشن ختم کردیے گئے۔ حکام کے مطابق دو انچ کی پائپ لائنوں کے ذریعے مرکزی لائن سے براہِ راست پانی چوری کیا جارہا تھا۔
یہ غیر قانونی کنکشن سپارکو سوسائٹی، ایسٹ سٹی اسپتال، پاکستان ٹیلی ویژن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، احسن آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور خیابان پٹنی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قائم کیے گئے تھے جنہیں موقع پر ہی سیل کردیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں کوئٹہ ٹاؤن اے 3 میں 18 انچ قطر کی سہراب گوٹھ مین لائن سے لیے گئے دو غیر قانونی چار انچ کنکشن بھی منقطع کیے گئے۔
واٹر کارپوریشن حکام نے بتایا کہ ان کنکشنز سے منسلک صارف پر تقریباً 2 کروڑ روپے کے واجبات بھی بقایا ہیں جن کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں دو بڑے غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کیے گئے، پانچ غیر قانونی ٹیپنگ پوائنٹس ہٹائے گئے اور متعدد غیرمجاز پانی کے کنکشن منقطع کیے گئے۔
اس دوران ایک جنریٹر، دو سبمرسبل پمپ، چار الیکٹریکل بورڈز اور تقریباً 295 فٹ پائپ لائن بھی ضبط کی گئی۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے حکام کا مزید کہنا تھا کہ اس کارروائی سے 84 انچ حب ٹرنک مین اور 18 انچ سہراب گوٹھ ٹرانسمیشن لائن کو غیر قانونی مداخلت سے محفوظ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں منظم پانی چوری کے خاتمے اور تمام شہریوں کو پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایسے آپریشنز مسلسل جاری رہیں گے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پانی چوری، غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے قیام اور سرکاری پانی کے نظام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔















