اسلام آباد: وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) اور بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی اداروں نے پاکستان نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹجی 2026-2030 کی تیاری پر اتفاق کرتے ہوئے ملک میں سرکاری خریداری کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس سلسلے میں فیڈرل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ورلڈ بینک کے تعاون سے اسلام آباد میں ورلڈ بینک کنٹری آفس میں نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹجی (NPS 2026-2030) کے مسودے پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور گلگت بلتستان کی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹیز کے نمائندوں کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کے حکام نے بھی شرکت کی جن میں ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک شامل تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈرل پیپرا کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے کہا کہ سرکاری خریداری مالیاتی نظم و نسق اور قومی ترقی کا بنیادی ستون ہے جو حکومت کے اصلاحاتی اور گورننس ایجنڈے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سرکاری خریداری کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 19 سے 20 فیصد ہے جس کے پیش نظر ایک جامع قومی اصلاحاتی حکمت عملی ناگزیر ہوچکی ہے۔
انہوں نے نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹجی کی تیاری میں ورلڈ بینک کی مسلسل تکنیکی معاونت کو سراہتے ہوئے وفاقی اور صوبائی پروکیورمنٹ اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو بھی اہم قرار دیا جو فورم ایڈوائزری گروپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے جاری ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نئی نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹجی پاکستان کی پہلی قومی پروکیورمنٹ اسٹریٹجی (2013-2016) کی بنیاد پر تیار کی جا رہی ہے جس میں موجودہ ضروریات اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی ترجیحات شامل کی گئی ہیں۔
ان ترجیحات میں سرکاری خریداری کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن، پائیدار خریداری کے فروغ، کارکردگی کی نگرانی، معاہدہ جاتی اور مالیاتی نظم و نسق کے نظام سے انضمام اور پروکیورمنٹ سے وابستہ افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تربیت شامل ہے۔
ورلڈ بینک کے کنسلٹنٹ فائق دیق نے اجلاس کے دوران موجودہ صورتحال کے تجزیاتی نتائج پیش کیے اور مجوزہ اسٹریٹجک مقاصد، اصلاحاتی ترجیحات اور نفاذ کے فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء نے مجوزہ اصلاحات پر تکنیکی مشاورت کرتے ہوئے ان کے مؤثر نفاذ اور بہتر نتائج کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔
مسودہ اسٹریٹجی چار بنیادی اسٹریٹجک اہداف پر مشتمل ہے جن میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات، ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا اور پروکیورمنٹ کے شعبے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ کے فروغ کے ذریعے کارکردگی میں بہتری لانا اور شفافیت، جوابدہی، دیانت داری اور نگرانی کے مؤثر نظام کو فروغ دینا شامل ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے مجوزہ اسٹریٹجی کو جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کے کامیاب نفاذ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، بین الاقوامی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون اور ادارہ جاتی مضبوطی ناگزیر ہے۔
اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان میں ایک جدید، مربوط، شفاف اور مؤثر سرکاری خریداری نظام کو فروغ دیا جائے گا جو عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، سرکاری اخراجات میں ویلیو فار منی کو یقینی بنانے اور پائیدار قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔














