متحدہ عرب امارات نے بچوں اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایک نیا حکومتی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نہ تو اکاؤنٹ بنا سکیں گے اور نہ ہی ان کے مکمل فیچرز استعمال کر سکیں گے۔
یہ فیصلہ یو اے ای کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ والدین کی اجازت بھی اس پابندی سے استثنیٰ کا جواز نہیں بن سکے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات اور غیر ضروری ڈیجیٹل دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔

نئے قانون کے مطابق 15 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو محدود اور نگرانی میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ان اکاؤنٹس پر عمر کے مطابق مواد کی فلٹرنگ، خطرناک فیچرز کی بندش، اسکرین ٹائم کی حد بندی اور والدین کے کنٹرول جیسے سخت حفاظتی اقدامات لازمی ہوں گے۔
پالیسی کے نفاذ کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو 12 ماہ کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے نظام کو نئے ضوابط کے مطابق ڈھال سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارنا ذہنی دباؤ، توجہ کی کمی، تعلیمی کارکردگی میں کمی اور بعض اوقات بولنے اور سیکھنے کی صلاحیتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ پلیٹ فارمز دماغ کے ریوارڈ سسٹم کو اسی طرح متحرک کرتے ہیں جیسے نشہ آور چیزیں، جس سے بچے بار بار ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، جن میں ملائیشیا، آسٹریلیا اور برطانیہ شامل ہیں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات پر غور یا عمل کر رہے ہیں۔



















