اطالوی وزیر اعظم جیورجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی کسی تصویر کے لیے درخواست یا التجا نہیں کی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کینیڈا میں ایک بین الاقوامی سمٹ کے دوران میلونی نے ٹرمپ کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم اطالوی وزیر اعظم نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی باتیں حقیقت کے برعکس اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
BREAKING. All hell breaks loose between Donald Trump and Giorgia Meloni. 🇮🇹 🇺🇸
Trump told La7 tv that apparently “Meloni begged to have a picture with me at the G7, I felt sorry for her”.
Meloni’s scathing response: “I am shocked by Trump’s utterly fabricated words. I am sorry…
— Antonello Guerrera (@antoguerrera) June 19, 2026
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سفارت کاری ذاتی خواہشات یا شہ سرخیوں پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور ریاستی وقار پر قائم ہوتی ہے۔ میلونی نے زور دے کر کہا کہ اٹلی اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ قومی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کسی شخصی ملاقات یا تصویر کے تناظر میں۔
سیاسی حلقوں کے مطابق اس بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی قیادت پہلے ہی مختلف سفارتی چیلنجز اور رابطوں میں مصروف ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات بعض اوقات سفارتی ماحول میں غیر ضروری کشیدگی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کر لی ہے — جہاں ایک طبقہ میلونی کے مؤقف کو خودمختار اور دوٹوک قرار دے رہا ہے، جبکہ کچھ صارفین اسے سیاسی بیان بازی اور میڈیا اسپیچ وار کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔


















