واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم و چکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو آج رات بھی ایران پر حملے کیے جاسکتے ہیں جب کہ انہوں نے ایک بار پھر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں ہونے والا نیٹو کا اجلاس شاندار رہا اور اس کامیاب انعقاد پر ترکیہ اور صدر رجب طیب اردگان نے بہترین کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کا مستقبل روشن ہے اور پولینڈ میں مقیم یوکرینی شہری اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔ ماضی میں کئی جنگیں رکوا چکا اور اب روس، یوکرین جنگ بھی ختم کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ روس، یوکرین جنگ میں تقریباً 25 ہزار افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر روسی تھے تاہم وہ بھی انسان ہیں۔ روسی صدر اور یوکرینی صدر سے بات کی ہے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے گزشتہ روز ڈرونز اور راکٹوں سے بحری جہازوں پر حملے کیے جب کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ گزشتہ رات ایران پر شدید حملے کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر آج رات بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اور ان کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کو ناک آؤٹ کردیا گیا ہے اور اب ایران مشرق وسطیٰ میں کسی کو تنگ نہیں کرسکے گا۔
اس موقع پر یوکرینی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے صدر ٹرمپ یوکرین میں امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے، یوکرین کے لیے فضائی دفاع اس وقت اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یوکرین نے روس کے اندر داخل ہوکر روسی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اپنی فضائی حدود کا مکمل دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برابری کی بنیاد پر مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔















