کابل: افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت کے خلاف مزاحمت کے دعوے ایک بار پھر شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سابق افغان فوجی کمانڈر اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اعلان کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان پر افغان طالبان کے اقتدار کے بعد پہلی مرتبہ سابق افغان فوج کے سینئر کمانڈر جنرل سمیع سادات منظر عام پر آئے اور انہوں نے قندہار سے طالبان حکومت کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے افغان عوام کو جلد آزادی کی امید دلائی۔
جنرل سمیع سادات کا کہنا ہے کہ افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مزاحمتی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا جب کہ ان کے بیان کو طالبان مخالف حلقوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
صحافی عبداللہ جان صابر نے جنرل سمیع سادات کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مظالم، خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں اور دیگر سخت پالیسیوں کے باعث افغان عوام میں طالبان حکومت کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو عوامی خدمت کا موقع ملا تاہم انہوں نے عوامی فلاح کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی اور متنازع پالیسیوں کے باعث پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی طالبان حکومت کے تعلقات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔
عبداللہ جان صابر کا مزید کہنا تھا کہ طالبان مخالف مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان ممکنہ اتحاد مستقبل میں افغان طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف بڑھتی مزاحمتی سرگرمیاں افغانستان کی سیاسی صورتحال میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کررہی ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ طالبان حکومت کے زیر انتظام افغانستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق سے متعلق متعدد خدشات اور تنقید سامنے آتی رہی ہے۔



















