ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق رابطے صرف عمان کے ساتھ جاری ہیں، جن کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ میں عارضی طور پر محفوظ بحری آمدورفت کے انتظامات پر مشاورت کرنا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ عمان کے ساتھ کسی محفوظ بحری راستے پر اتفاق اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس سے آبنائے ہرمز کی مکمل صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، حالات میں نمایاں تبدیلی ممکن نہیں۔
Iran’s Foreign Ministry Spokesman says Tehran has been holding talks with Oman “for the last 7-8 days”.
“Some progress has been achieved,” he said, adding that talks with officials from the region and outside the region are being held as well. pic.twitter.com/EE6ohrzpAb
— Iran’s Today (@Iran) August 3, 2026
ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال بدستور برقرار ہے اور اس معاملے پر علاقائی سطح پر رابطے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق خبریں زیر گردش تھیں، تاہم تہران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال امریکا کے ساتھ کوئی سفارتی رابطہ موجود نہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی لیے اس خطے کی صورتحال پر عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی برادری کی گہری نظر ہے۔




















