افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن یوناما نے یوناما نے افغانستان کے سیکیورٹی سیکٹر میں احتساب سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کردی جس میں طالبان رجیم کے قانونی، انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچے کا جائزہ پیش کیا گیا۔
یوناما کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق جنگجوؤں کو سیکیورٹی اداروں میں شامل کیا جو اب پولیس، انٹیلی جنس، فوج اور جیلوں سمیت مختلف اداروں میں انتظامی اور سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق آئینی اور قانونی ڈھانچے کو معطل یا منسوخ کردیا اور سابق ریاستی قوانین کی جگہ ایک سخت گیر نظریاتی قانونی نظام نافذ کیا۔ اس نظام میں قرآن، حدیث اور فقہ حنفی کی طالبان کی مخصوص تشریح کو قوانین کی بنیاد بنایا گیا ہے۔
یوناما کے مطابق طالبان عدالتوں کو اپنی تشریحِ شریعت کے مطابق فیصلے اور سزائیں دینے کی ہدایات جاری کرتے ہیں، جبکہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ آئینی قانون کے بجائے طالبان سربراہ کے فرامین اور سخت گیر مذہبی تشریحات پر قائم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان سربراہ کے احکامات سیکیورٹی اداروں، عدلیہ اور انتظامیہ کے لیے بنیادی رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یوناما نے طالبان کے فوجی عدالتوں کے نظام میں وکلا کی رسائی اور مؤثر اپیل کے حق سے متعلق بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، تحقیقات اور دی جانے والی سزاؤں کے مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض طالبان سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف شکایات فوجی عدالتوں کی جانب سے وصول کرنے سے بھی انکار کیا گیا۔ احتسابی عمل میں دباؤ اور مداخلت کی شکایات بھی طالبان کے موجودہ نظام میں جوابدہی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
یوناما کے مطابق طالبان کی جانب سے شفافیت کے دعوؤں کے باوجود سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں اور تحقیقات کی تفصیلات باقاعدگی سے منظر عام پر نہیں لائی جاتیں۔
رپورٹ میں طالبان کے قانون پسندی کے دعووں کے باوجود شفافیت، عدالتی ضمانتوں اور احتساب کے نظام میں موجود سنگین خلا کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یوناما کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کا موجودہ طالبان نظام ایک ایسے سخت گیر نظریاتی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے جہاں عسکری طاقت، مذہبی اختیار اور حکومتی اقتدار ایک دوسرے سے گہرے طور پر منسلک ہیں۔




















