انڈین دنیا میں بدترین سیاحوں کے طور پر مشہور ہونے لگے ہیں جہاں انہیں اخلاقی اقدار کی پاسداری نہ کرنے پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹرزلینڈ کے ایک ہوٹل میں انڈین سیاحوں کے لیے نوٹس آویزاں کر دیا گیا جس میں ان کے لیے خصوصی اصول و قواعد نافذ کر دیے گیے۔
ہوٹل نوٹس میں ’انڈین مہمانوں‘ کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا کہ ناشتہ کرنے کے بعد ریستوران سے کوئی چیز پیک کر کے باہر نہ لے جائیں اگر کوئی ڈش ایک سے زیادہ انڈین مہمان شیئر کرتے ہیں تو اس کے لیے الگ سے پیسے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انڈین مہمان کوریڈور اور بالکونی وغیرہ میں اونچی آواز میں بات نہ کریں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیوس میں ایک بزنس مین نے ایک کلب میں انتہائی اونچی آواز میں پنجابی موسیقی بجائی جبکہ یورپ میں بہت سے ہوٹل انڈین مہمانوں کے کمروں میں الیکٹرک کیتلی نہیں رکھتے کیونکہ بہت سے مہمان اسے مصالحے دار نوڈلز بنانے اور انڈے ابالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ویتنام کے ہوائے اڈے پر بہت سے انڈین سیاحوں نے جہاز کے نزدیک انڈین ڈانس کیا۔

بھارتی بزنس مین ہرش گوئنکا نے کہا کہ یہ نوٹس پڑھ کر مجھے شرمندگی ہوئی، بطور سیاح ہم انڈین اکثر بلند آواز، بدتمیز اور ثقافتی طور پر بے حس ہوتے ہیں عالمی سطح پر بھارتی سیاح ملک کے لئے بدنامی کماتے نظر آتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا (بالی) میں بھارتی سیاحوں کو ہوٹل سے چمچ، تولیے، جوتے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اسی طرح امریکہ ’’ٹارگٹ‘‘ اسٹور سے بھارتی خاتون چوری کرتے پکڑی گئی جبکہ تھائی لینڈ میں بھارتی شہری کی طرف سے ہراسمنٹ پر ہیجڑوں نے لاتوں اور تھپڑوں سے تواضع کر دی۔
سوشل میڈیا پردکھاگیا کہ نیپال میں بھارتی سیاحوں کو پھیلائی گئی گندگی اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت میں شہریوں کا غیر اخلاقی رویہ بھی عالمی سیاحوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک خاتون سیاح نے غلاظت کے ڈھیر دکھاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بھارت میں دیکھنے کو یہی کچھ ہے؟
سابق سی آئی اے آفیسر جان کیریکو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے 72 ممالک کا سفر کیا ہے بھارت بدترین ہے گندگی اور کھلے عام رفع حاجت کی عادت کی وجہ سے مجھے بھارت سے نفرت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے’’شایننگ انڈیا‘‘ کے برعکس دنیا بھارت کو ایک غلیظ اور پر تشدد ملک کے طور پر دیکھتی ہے ترقی کے نام نہاد دعوؤں کی بجائے بھارتی رہنماؤں کو اخلاقی اور معاشرتی صفائی پر زور دینا چاہیے۔


















