Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصطفیٰ کمال سے ورلڈ بینک وفد کی ملاقات، مقامی ویکسین سازی اور بنیادی صحت پر زور

ویکسین کی مقامی پیداوار کے لیے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے ممتا مورٹھی کی قیادت میں ورلڈ بینک گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، جاری اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ورلڈ بینک کے سینئر حکام، پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر، علاقائی نمائندگان اور صحت کے شعبے کے ماہرین بھی شریک تھے۔ وفد نے بنیادی صحت کی سہولیات، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور غذائی قلت (سٹنٹنگ) پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری صحت منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وفد کو صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز، حکومتی اقدامات اور ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت موجودہ نظام کو حقیقی معنوں میں مؤثر ہیلتھ کیئر سسٹم میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کو ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مضبوط بنایا جا رہا ہے جبکہ بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر ریفرل سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ عوام کو بیماریوں سے بچانا ان کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت احتیاطی صحت کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2030 سے قبل پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ 13 بیماریوں کی ویکسین کی مقامی پیداوار کے لیے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔

ورلڈ بینک کے وفد نے وزیر صحت کے اقدامات اور وژن کو سراہتے ہوئے پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ممتا مورتی نے وزیر صحت کو دسمبر 2026 میں منعقد ہونے والے یونیورسل ہیلتھ کوریج فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

ممتا مورتی نے کہا کہ ورلڈ بینک پاکستان میں صحت کے شعبے کی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی شراکت داری جاری رکھے گا۔

متعلقہ خبریں