پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سم ڈس اون پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نئی فعال کی جانے والی سم کی مدت 60 دن سے بڑھا کر 365 دن (ایک سال) کر دی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت فعال سم کارڈ کو ایکٹیویشن کے بعد ایک سال تک نہ تو ڈس اون کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کیا جا سکے گا۔ اس دعوے کے بعد صارفین میں تشویش پیدا ہوئی اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے سوالات اٹھائے گئے۔
ٹی اے سم کارڈ پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے صارفین کے لیے نئی پابندی متعارف کرا دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب کوئی بھی فعال سم کارڈ ایک سال تک صارف کے نام سے ختم یا منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق پہلے سم… pic.twitter.com/Orl4RReRu4
— its me میٹھو (@itsmyliffe2004) May 24, 2026
پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ گورنمنٹ افیئرز ڈویژن، احمد شمیم نے اس پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نئی ایکٹیویٹ ہونے والی سم کو اب ایک سال تک ڈس اون نہیں کیا جا سکے گا۔
The Pakistan Telecommunication Authority has enhanced the SIM disowning period from 60 days to 365 days as part of its continued efforts to strengthen safeguards against illegal SIM issuance and unauthorized registrations.
Citizens are strongly advised to exercise utmost caution… pic.twitter.com/jniKqATP8Q— PTA (@PTAofficialpk) May 24, 2026
پی ٹی اے نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی سموں کے اجرا، غیر مجاز رجسٹریشنز کی روک تھام اور قومی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سم جاری کرواتے وقت بائیومیٹرک تصدیق کے عمل میں انتہائی احتیاط برتیں کیونکہ نئی سم صرف ایک سال مکمل ہونے کے بعد ہی ڈس اون کی جا سکے گی۔
پی ٹی اے نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ صارفین یہ معلومات ویب پورٹل cnic.sims.pk کے ذریعے یا اپنا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش) 668 پر ایس ایم ایس کرکے حاصل کر سکتے ہیں۔



















