Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یلو لائن منصوبہ؛ سندھ حکومت کو بھی تحفظات، ورلڈ بینک سے بسوں کی فراہمی کا مطالبہ

اگر یلو لائن منصوبہ تعمیر ہوا تو انڈسٹری یہاں سے ختم ہوجائے گی، سابق صدر کاٹی کے تحفظات

کراچی: وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ یلو لائن منصوبے پر سندھ حکومت کو بھی تحفظات ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک سے کہا ہے کہ شہر کھودنے کے بجائے بسیں فراہم کردی جائیں۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ یلو لائن منصوبے کے حوالے سے سندھ حکومت کے تحفظات موجود ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ اس معاملے پر ورلڈ بینک سے بات کررہے ہیں۔

اس موقع پر بزنس کمیونٹی نے وزیر بلدیات کے سامنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔ صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ شہر کے سب سے بڑے انڈسٹریل زون میں نہ انفراسٹرکچر ہے، نہ سیوریج، نہ سڑکیں اور نہ ہی پانی کی سہولت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 سال سے کاٹی کے دفتر میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں آئی۔ سابق صدر کاٹی مسعود نقی نے کہا کہ یلو لائن منصوبے پر کئی بار تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ اگر یلو لائن منصوبہ تعمیر ہوا تو انڈسٹری یہاں سے ختم ہوجائے گی۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ کی ہائی ویز کی سڑکوں کی ذمہ داری سندھ حکومت کی نہیں ہے۔ این ایف سی کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن پی ایس ڈی پی سے سندھ کو صرف تین سے چار فیصد حصہ مل رہا ہے۔

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی ہائی ویز کی خرابی کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن ان کی تعمیر اور بحالی کی ذمہ داری وفاق کے پاس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں دو ہزار ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور ان پر جلد کام مکمل ہوجائے گا۔

وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ 2010 سے 2022 تک آنے والے سیلابوں کے باعث سندھ کا 70 فیصد انفراسٹرکچر دو مرتبہ تباہ ہوا۔

متعلقہ خبریں