Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاقی حکومت 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ کل پیش کرے گی

وفاقی حکومت کل مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی

اسلام آباد: وفاقی حکومت کل مالی سال 2026-27 کا 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کرے گی جس میں اہم معاشی اہداف اور ٹیکس اصلاحات شامل ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو 2 ہزار 767 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ معاشی شرح نمو 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

قرض، دفاع اور مالی اخراجات

بجٹ دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے 1727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دفاعی اخراجات تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک رکھنے کا امکان ہے۔

برآمدات، درآمدات اور تجارتی خسارہ

برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات 70 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

زرعی شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد، صنعتی شعبے کی 4 فیصد جبکہ بڑی صنعتوں میں 4.5 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ خدمات کے شعبے میں 4.2 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

روزگار کے مواقع

حکومت نے آئندہ مالی سال میں 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعت میں 5 لاکھ اور زرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتوں کا ہدف شامل ہے۔

قومی ترقیاتی پلان

قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف کی منظوری دے دی ہے جبکہ 3669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان بھی منظور کر لیا گیا ہے۔ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کا حجم 1000 ارب روپے تک مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2218 ارب روپے مختص کیے جائیں گے جبکہ وفاق اور صوبے ترقیاتی بجٹ میں 1046 ارب روپے کی بچت کریں گے۔

ترقیاتی بجٹ میں کمی اور پالیسی فیصلے

پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب روپے، سندھ میں 110 ارب روپے اور خیبرپختونخوا میں 109 ارب روپے کمی کی منظوری دی گئی ہے۔

دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کسی نئے ترقیاتی منصوبے کے آغاز پر پابندی کا فیصلہ بھی زیر غور ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف

تنخواہ دار طبقے کے لیے تقریباً 50 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پر غور کیا جا رہا ہے۔ انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن والوں کو ریلیف ملنے کا امکان ہے جبکہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر ٹیکس شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد تک آسکتی ہے۔

مجوزہ اصلاحات سے تقریباً 4 لاکھ ملازمین مستفید ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے آمدن پر 29 فیصد اور 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح زیر غور ہے جبکہ اس سے زائد آمدن پر 35 فیصد زیادہ سے زیادہ شرح برقرار رہنے کا امکان ہے۔

سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن پر عائد سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف پیکیج پر غور جاری ہے۔

متعلقہ خبریں