Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں اہم انکشافات

افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں اہم انکشافات،رپورٹ

سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے افغانستان کی صورتحال پر تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کردی۔

اقوام متحدہ  کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں افغان سرزمین پردہشتگردوں کی موجودگی کے پاکستانی موقف کی تائید کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق عالمی دہشتگرد تنظیمیں تاحال افغان سرزمین پر اپنی پوری عسکری اورجنگی صلاحیتوں کے ساتھ کھلے عام سرگرم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے21 فروری کوننگرہاراورپکتیکامیں فضائی حملےکرکےفتنہ الخوارج اورداعش کےٹھکانوں کوتباہ کردیا طالبان رجیم پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنےمیں ناکام رہی،پاکستان کومجبوراًیہ قدم اٹھانا پڑا پاکستان نےاسلام آباد مسجد پرہونےوالےبزدلانہ خودکش حملےکاجواب دیتے ہوئےالقاعدہ کااہم کمانڈرجہنم واصل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے26 فروری کوافغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب الحق کاآغازکیاجس میں عسکری تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق پاکستان کے ساتھ سرحد ی بندش سےافغان تجارت میں 90 فیصد سےزائد کی کمی جبکہ ٹرانسپورٹ لاگت میں 30 فیصداضافہ ہوا ہے۔ 29 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی کے بعد طالبان رجیم لیبرمارکیٹ، رہائش اوربنیادی سہولیات فراہم کرنےمیں ناکام ہوچکی ہے۔ افغانستان میں سیکیورٹی بحران سنگین ہوگیا ہے اور گزشتہ 3 ماہ میں مختلف واقعات57 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ہزار687 تک پہنچ گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان رجیم مخالف متعدد مسلح گروپس سرگرم ہیں جنہوں نےحالیہ 18 کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی۔ عام معافی کےدعوؤں کےبرعکس سابق سرکاری ملازمین اورسیکیورٹی اہلکاربدستورافغان طالبان کے نشانے پرہیں گزشتہ 3 ماہ میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے5 ماورائےعدالت قتل،20غیرقانونی گرفتاریاں اورتشدد کے8 سےزائدواقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کا سلسلہ بدستورجاری ہے، طالبان رجیم کی جانب سےصحافتی اداروں پرسخت پابندیاں برقرارہیں طالبان رجیم کی نااہلی کےباعث افغانستان میں کیمیائی منشیات بالخصوص’آئس’ کی تیاری اوراسمگلنگ بدستورجاری ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی سرپرستی کے باعث القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطےکیلئے خطرناک ہیں قابض افغان  طالبان رجیم کا مقصد عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف عسکری عزائم کو آگے بڑھانا ہے۔

متعلقہ خبریں