Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بجٹ میں آئی ٹی کمپنیوں پر 300 فیصد زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ

جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 میں آئی سی ٹی برآمدی ریمیٹینس تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 3.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر کو آئندہ بجٹ میں 300 فیصد زیادہ ٹیکس کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئی ٹی کمپنیوں پر موجودہ 0.25 فیصد ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 1 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یہ ممکنہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کا ٹیکنالوجی سیکٹر برآمدات اور فری لانس آمدنی میں مضبوط ترقی پارہا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 میں آئی سی ٹی برآمدی ریمیٹینس تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 3.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ 2.829 ارب ڈالر تھی۔

اسی طرح فری لانس معیشت بھی تیز رفتار ترقی جاری رکھے ہوئے ہے۔ فری لانسرز کی ریمیٹینس سالانہ 51 فیصد اضافہ کر کے 856.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو پاکستان کی ڈیجیٹل ورک فورس کے غیر ملکی زر مبادلہ میں بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

ممکنہ ٹیکس اضافے کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن  نے حکومت سے فری لانسرز اور پورے ڈیجیٹل معیشت کے لیے معاون ٹیکس پالیسیاں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

فری لانسرز ایسوسی ایشن  نے بجٹ تجاویز میں فی الحال موجود 0.25 فیصد ٹیکس کی شرح کو کم از کم اگلے دس سال تک برقرار رکھنے کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بڑے شہروں میں فری لانسنگ ہب قائم کرنے، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشنز کے لیے سبسڈی دینے، اور ورک فورس کی مہارت کو مضبوط کرنے کے اقدامات شروع کرنے کی بھی تجویز دی۔

ماہرین کے مطابق مسابقتی ٹیکس ریٹ برقرار رکھنا برآمدات کی ترقی کو جاری رکھنے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، اور پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں موجودگی کو بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

حکومت نے ابھی تک اس تجویز پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جو آج کے بجٹ پیش کرنے کے دوران واضح ہونے کی توقع ہے۔