Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایندھن کا بحران، روسی ڈرائیورز گاڑیوں میں فیول ٹیبز استعمال کرنے لگے

یہ گولیاں روس کے متعدد پٹرول پمپس پر 50 سے 80 روبل کی قیمت میں دستیاب ہیں

روس میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بعض علاقوں میں پٹرول کی قلت کے باعث گاڑی مالکان متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسی پس منظر میں ایسی مشکوک مصنوعات کی فروخت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جنہیں فیول ٹیبز یا ایندھن کی گولیاں کہا جاتا ہے۔

ان مصنوعات کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ گاڑیوں میں ایندھن کے جلنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہیں جس کے نتیجے میں پٹرول کی کھپت کم ہو جاتی ہے اور ڈرائیوروں کے اخراجات میں بچت ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق روسی آئل ریفائنریوں پر بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں نے ملک کے ایندھن کے ذخائر کو متاثر کیا ہے۔ بعض علاقوں میں پٹرول کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہے جبکہ دیگر مقامات پر قیمتوں میں اضافہ کر کے طلب کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے بہت سے ڈرائیوروں کو ایسے غیر روایتی اور غیر مصدقہ حل کی جانب راغب کردیا ہے۔

روسی ٹیلیگرام نیوز چینل بازا  کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ان فیول گولیوں کی فروخت میں تقریباً ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان مصنوعات کے بارے میں پوسٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بوقا  اور بی ایکو جیسے برانڈز کے نام سے فروخت ہونے والی یہ گولیاں مبینہ طور پر انجن میں ایندھن کے استعمال کو مستحکم اور زیادہ مؤثر بناتی ہیں، جس سے پٹرول کی کھپت کم ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

یہ گولیاں روس کے متعدد پٹرول پمپس پر 50 سے 80 روبل کی قیمت میں دستیاب ہیں۔ بعض کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ایک گولی 200 لیٹر تک پٹرول کے لیے مؤثر رہتی ہے جبکہ کچھ برانڈز تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کم معیار کے اے آئی 92  پٹرول کو اے آئی  95 جیسی کارکردگی فراہم کر سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کی جانب سے ان دعوؤں پر شک کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ان گولیوں میں موجود اضافی کیمیکل پٹرول میں پہلے سے شامل ایڈیٹیوز کے ساتھ ردعمل پیدا کر سکتے ہیں جس سے فیول انجیکٹرز یا انجن کے دیگر حصوں میں خرابی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

 کئی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ گولیاں دراصل ایک “انجن پلیسبو” ہیں یعنی ایسی مصنوعات جو حقیقی فائدہ فراہم نہیں کرتیں بلکہ صرف صارف کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ گاڑی کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔

ابھی تک کوئی قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کر سکے کہ یہ فیول گولیاں واقعی ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی کرتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین گاڑی مالکان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایسے دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لیں اور اپنی گاڑیوں کے لیے صرف مستند اور منظور شدہ مصنوعات ہی استعمال کریں۔