Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پیٹرول اور ڈیزل پر اربوں کمانے والی آئل کمپنیاں قیمتوں میں کمی پر سخت پریشان

کونسل کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مارجنز گزشتہ ڈھائی برس سے نظرثانی کے منتظر ہیں

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلیوں اور پرائسنگ پالیسی پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے حکومت کو ہنگامی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ فیصلے آئل انڈسٹری کو شدید دباؤ میں لے آئے ہیں۔

او سی اے سی کے مطابق یکطرفہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ریفائنریز کو بڑے مالی نقصان کا سامنا ہے جس کی مجموعی مالیت تقریباً 104 ارب روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے کمپنیوں کی لیکویڈیٹی اور ورکنگ کیپیٹل بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انڈسٹری نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسی برقرار رہی تو نہ صرف مقامی آئل کمپنیاں مالی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان سے سرمایہ نکالنے پر غور کر سکتے ہیں۔

او سی اے سی نے مزید کہا کہ مسلسل دباؤ اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود آئل سیکٹر نے ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ حتیٰ کہ بعض ریفائنریز نے قومی مفاد کے تحت فوجی اور حج پروازوں کو پرانی قیمتوں پر ایندھن فراہم کیا۔

کونسل کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مارجنز گزشتہ ڈھائی برس سے نظرثانی کے منتظر ہیں جبکہ 66.7 ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

او سی اے سی نے وزیرِ پیٹرولیم سے فوری ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک منصفانہ اور قابلِ عمل پرائسنگ نظام متعارف کرانے پر زور دیا ہے، تاکہ ممکنہ طور پر سپلائی چین میں پیدا ہونے والے خطرات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں