بھارت سے متعلق کیے گئے ریمارکس کے بعد انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی دو معروف کھلاڑیوں، کیٹ کراس اور الیکس ہارٹلی کو سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، گالم گلوچ اور مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دونوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید بھارتی ٹیم نہیں بلکہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹ شیڈول پر تھی۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیٹ کراس نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ کسی بھی مرحلے پر بھارتی ٹیم کو نشانہ نہیں بنا رہی تھیں بلکہ ان کا اعتراض صرف عالمی کرکٹ کونسل کی جانب سے سیمی فائنل کے شیڈول میں اختیار کیے گئے طریقہ کار پر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بیان کے بعد ان کی سوشل میڈیا پوسٹس پر سیکڑوں تبصرے آئے جن میں بڑی تعداد میں توہین آمیز پیغامات اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں جس نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
واضح رہے کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل آئی سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اگر بھارت سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ لازماً پہلا سیمی فائنل کھیلے گا۔ اس فیصلے پر کیٹ کراس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ کسی ایک ٹیم کے لیے پہلے سے شیڈول طے کرنا عالمی ایونٹ کے اصولوں کے مطابق نہیں لگتا۔
الیکس ہارٹلی اور کیٹ کراس نے زور دے کر کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد کسی ملک یا ٹیم پر تنقید نہیں بلکہ ٹورنامنٹ کے انتظامی فیصلوں پر سوال اٹھانا تھا تاہم ان کے بیان کو مختلف انداز میں لیا گیا جس کے بعد انہیں سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔



















