اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا کی جاری وبا ایبولا وائرس جمہوریہ کانگو میں معاشی اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ مزید افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ملک میں پہلے ہی 60 فیصد آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے جبکہ اب تک کانگو اور یوگنڈا میں مجموعی طور پر 1,400 سے زائد کیسز اور 350 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں اور کیسز میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ایتوری صوبہ ہے جہاں 90 فیصد سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کا ایک اہم مرکز بھی ہے جس سے وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ وبا پر قابو پا لیا جائے تب بھی اس کے معاشی اثرات انتہائی خطرناک ہوں گے اور افریقہ کو تقریباً 3.6 ارب ڈالر کا نقصان جبکہ کانگو کو 1 ارب ڈالر سے زائد نقصان اور 55 ہزار ملازمتوں کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس بحران کے باعث افریقی جی ڈی پی میں تقریباً 2.37 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے جبکہ روزگار پہلے ہی تیزی سے ختم ہو رہا ہے مارکیٹیں سست روی کا شکار ہیں اور عام خاندان شدید دباؤ میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے نمائندے ڈیمین ماما کے مطابق کئی خاندانوں کو مجبوری میں آئسولیشن کے اصول توڑنے پڑ رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف طبی اقدامات اس بحران کے لیے کافی نہیں۔




















