Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا کینسر کا علاج اب کیموتھراپی کے بغیر ممکن ہوگا؟ نئی تحقیق نے امید جگادی

اس منفرد تکنیک میں 99 فیصد سرطانی خلیات کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

سائنس دانوں نے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی اور منفرد تکنیک تیار کی ہے جس کے ابتدائی تجربات میں کیموتھراپی، آپریشن یا شعاعوں کے علاج کے بغیر تجربہ گاہ میں 99 فیصد سرطانی خلیات کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس نئی تکنیک میں ایک خاص قسم کے مصنوعی رنگ دار سالمات استعمال کیے جاتے ہیں جو پہلے ہی طبی تشخیص میں استعمال ہورہے ہیں۔

ان سالمات پر قریبِ تحتِ سرخ روشنی ڈالی جاتی ہے جس سے ان میں انتہائی تیز رفتار ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ ارتعاش اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ سرطانی خلیے کی بیرونی جھلی کو پھاڑ دیتا ہے اور چند ہی منٹوں میں خلیہ ختم ہوجاتا ہے جب کہ اس کے لیے دوا کی بہت کم مقدار درکار ہوتی ہے۔

اس طریقۂ کار کے ابتدائی نتائج 2023 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں سامنے آئے جس میں تجربہ گاہ میں موجود سرطانی خلیات کا 99 فیصد خاتمہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی تحقیق کے دوران جلد کے سرطان میں مبتلا چوہوں پر کیے گئے تجربات میں نصف جانور مکمل طور پر سرطان سے پاک ہوگئے۔

بعد ازاں 2024 میں اسی تحقیق کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سائنس دانوں نے اس تکنیک کی مختلف نئی صورتوں پر کام کیا تاکہ مستقبل میں کینسر کی مختلف اقسام کو زیادہ درست انداز میں نشانہ بنایا جاسکے۔

محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ طریقہ خالصتاً جسمانی قوت کے ذریعے سرطانی خلیات کو تباہ کرتا ہے، اس لیے امکان ہے کہ کینسر کے خلیات اس کے خلاف مزاحمت پیدا نہیں کرسکیں گے جو موجودہ علاج کے کئی طریقوں میں ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قریبِ تحتِ سرخ روشنی جسم کے اندر نسبتاً زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتی ہے جس کی وجہ سے ہڈیوں یا اندرونی اعضا میں موجود سرطان تک بغیر آپریشن کے رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔

سائنس دانوں نے اپنی تازہ تحقیق میں اس خدشے کا بھی جائزہ لیا کہ کہیں استعمال ہونے والے سالمات عام خلیات کے لیے نقصان دہ تو نہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ کم مقدار میں استعمال کیے جانے والے یہ سالمات جب تک انہیں روشنی سے متحرک نہ کیا جائے صحت مند خلیات انہیں جذب کرنے کے بعد جلد جسم سے خارج کردیتے ہیں جس سے اس طریقۂ علاج کی ممکنہ حفاظت کے بارے میں حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج ابھی صرف تجربہ گاہ اور جانوروں تک محدود ہیں تاہم ابتدائی کامیابی مستقبل میں کینسر کے مؤثر اور کم تکلیف دہ علاج کی نئی امید پیدا کرتی ہے۔