لاہور ہائیکورٹ نے متروکہ اراضی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تمام متروکہ اراضی اب حکومت کی ملکیت ہے اور اسے صرف عوامی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ وقف یا متروکہ املاک کسی بھی شخص یا ادارے کو الاٹ نہیں کی جا سکتیں، جبکہ ایسی اراضی کی کوئی بھی الاٹمنٹ قانون کی نظر میں ابتدا ہی سے غلط اور کالعدم تصور ہوگی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پرانے الاٹمنٹ آرڈرز کا بروقت سرکاری ریکارڈ میں اندراج نہ ہونے کی صورت میں ان کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ مزید کہا گیا کہ متروکہ املاک سے متعلق قوانین 1975 میں منسوخ ہو چکے ہیں، اس لیے اب کسی بھی شخص کو نئی الاٹمنٹ یا متبادل زمین دینے کا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں۔
فیصلے کے مطابق متروکہ اراضی سرکاری تحویل میں آنے کے بعد اس سے متعلق فیصلوں کا اختیار چیف سیٹلمنٹ کمشنر یا متعلقہ بورڈ کے پاس بھی نہیں رہا۔
لاہور ہائیکورٹ نے متروکہ املاک کی اراضی کے انتقال کی درخواست ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی۔
درخواست گزار توصیف شہزاد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے دادا نے 1960 میں وہاڑی کے علاقے میلسی میں کھلی نیلامی کے ذریعے 3 کنال زمین خریدی تھی، تاہم ان پڑھ ہونے اور عدالتی کارروائی سے لاعلمی کے باعث زمین کا سرکاری ریکارڈ میں اندراج نہ ہو سکا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ کمشنر ملتان کو زمین کا سرکاری انتقال درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ قوانین منسوخ ہو چکے ہیں، اس لیے دہائیوں پرانے الاٹمنٹ آرڈرز کی بنیاد پر انتقال درج کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔


















