Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خلا میں پیچیدہ چینی کی دریافت، زندگی کی ابتدا سے متعلق تحقیق میں اہم پیش رفت

ایریتھرولوز ایک قدرتی چینی ہے جو رسبری سمیت بعض پھلوں اور جلد کی رنگت نکھارنے والی بعض کریموں میں بھی پائی جاتی ہے

سائنسدانوں نے خلا میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی “ایریتھرولوز  دریافت کی ہے، جسے زندگی کے آغاز سے متعلق تحقیق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ چینی دودھیا کہکشاں (ملکی وے) کے مرکز کے قریب واقع ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کا اشارہ ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران اسپین میں نصب دو بڑی ڈش نما ریڈیو دوربینوں کی مدد سے ملکی وے کے مرکز کے قریب موجود گیس کے بادل کا مشاہدہ کیا گیا۔ بعد ازاں سائنسدانوں نے لیبارٹری میں موجود نمونوں کے ساتھ دوربینوں سے حاصل ہونے والے اشاروں کا موازنہ کر کے ایریتھرولوز کی موجودگی کی تصدیق کی۔

ماہرین کے مطابق ایریتھرولوز ایک قدرتی چینی ہے جو رسبری سمیت بعض پھلوں اور جلد کی رنگت نکھارنے والی بعض کریموں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خود زندگی کے لیے ضروری جزو نہیں، تاہم یہ آسانی سے ایسی کیمیائی شکل اختیار کر سکتی ہے جسے زمین پر زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کرنے والی شکر تصور کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چینی نہ صرف جانداروں میں توانائی کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ خلیات کے افعال اور ڈی این اے جیسے حیاتیاتی نظام کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خلا میں چینی کیسے بنتی ہے اور اس کا زندگی کی ابتدا سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ دریافت ان پیچیدہ نامیاتی مادوں کی ایک اہم مثال ہے جو پوری کہکشاں میں قدرتی طور پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ چینی بذاتِ خود زندگی پیدا نہیں کر سکتی تاہم یہ ایسے مرکبات میں تبدیل ہو سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔