Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیونٹیاں میٹھی چیز تک اتنی جلدی کیسے پہنچ جاتی ہیں؟ سائنس نے حیران کن راز بتا دیا

ماہرین کے مطابق چیونٹیوں کی غیرمعمولی سونگھنے کی صلاحیت اور ان کے اینٹینا (سینگ نما اعضا) اس نظام کا بنیادی حصہ ہیں

گھر میں کسی بھی جگہ چینی کے چند دانے، کھیر کا ایک قطرہ یا مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا  گر جائے تو چند ہی لمحوں میں وہاں چیونٹیوں کی قطار لگ جاتی ہے  بظاہر یہ ایک معمولی منظر معلوم ہوتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کے پیچھے فطرت کا ایک نہایت منظم اور مؤثر حیاتیاتی نظام کارفرما ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چیونٹیوں کی غیرمعمولی سونگھنے کی صلاحیت اور ان کے اینٹینا (سینگ نما اعضا) اس نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔ اینٹینا انہیں ایسے کیمیائی سگنلز محسوس کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں جنہیں انسان نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چیونٹیاں انتہائی معمولی مقدار میں گری ہوئی میٹھی خوراک کا بھی سراغ لگا لیتی ہیں۔

 ہر چیونٹی کالونی میں مزدور چیونٹیوں کا ایک گروہ مسلسل خوراک کی تلاش میں مصروف رہتا ہے۔ یہ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، فرش کے کناروں، دروازوں کی دہلیز اور باورچی خانے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ جیسے ہی انہیں چینی، شربت، مٹھائی یا کسی بھی میٹھی چیز کا ذرہ ملتا ہے، وہ فوری طور پر اس کی شناخت کر لیتی ہیں۔

2021 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود خصوصی ذائقہ محسوس کرنے والے ریسیپٹرز انہیں صرف چھونے سے ہی یہ جاننے کی صلاحیت دیتے ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں، جس سے خوراک کی فوری شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔

خوراک ملنے کے بعد چیونٹی اکیلے واپس نہیں جاتی بلکہ واپسی کے راستے میں فیرومونز نامی ایک خاص کیمیائی مادہ چھوڑتی جاتی ہے۔ یہی فیرومونز دوسری چیونٹیوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں، جو اسی خوشبو والے راستے پر چلتے ہوئے براہِ راست خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیماری کی صورت میں چیونٹیاں بھی انسانوں کی طرح احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں، تحقیق

امریکی محکمہ زراعت کی زرعی تحقیقاتی سروس کے مطابق فیرومونز ایک قدرتی نیوی گیشن سسٹم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین نے اس نظام کو جدید گوگل میپس سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ یہ پوری کالونی کو درست راستہ دکھانے اور خوراک تک پہنچانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

1993 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہتے ہیں، جو دوسری مزدور چیونٹیوں کے جمع ہونے اور خوراک کو کالونی تک منتقل کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتے ہیں۔

ماہرینِ حشرات کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں کے اینٹینا صرف سونگھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ رابطے، سمت کے تعین، خطرات کی نشاندہی اور اپنی کالونی کے افراد کی شناخت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اینٹینا متاثر ہو جائیں تو چیونٹیوں کے لیے نہ صرف خوراک تلاش کرنا بلکہ اپنی کالونی تک واپس پہنچنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق چیونٹیوں کا اجتماعی اور کیمیائی مواصلاتی نظام فطرت کے مؤثر ترین حیاتیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی منظم تعاون، بہترین رابطہ اور غیرمعمولی حسِ شامہ انہیں چند لمحوں میں معمولی سے معمولی میٹھی خوراک تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے، جو قدرت کے حیرت انگیز شاہکاروں میں سے ایک ہے۔