روسی جادوگر اور نجومی ملک میں ایندھن اور توانائی کی قلت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ دعویٰ کر کے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں کہ گاڑیوں میں ایندھن کا زیادہ خرچ ہونا کسی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ “کالے جادو” یا “بری نظر” کا نتیجہ ہے۔
روس میں جعلی جادوگر، نجومی اور عامل شدید ایندھن کے بحران سے پریشان گاڑی مالکان کو یہ دعویٰ کرکے دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ مخصوص رسومات کے ذریعے گاڑی کے ایندھن کی کھپت کم کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے انہیں فیس ادا کرنی ہوگی۔
روس اس وقت اپنی تاریخ کے ایک بڑے ایندھن کے بحران سے گزر رہا ہے ملک کے بعض علاقوں میں ڈرائیوروں کو مہنگے داموں پیٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی گھنٹوں پٹرول پمپوں پر انتظار کرنا پڑ رہا ہے اس کی وجہ یوکرین کی جانب سے روس کے اندر واقع آئل ریفائنریوں پر حملے ہیں جس کے باعث صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے اور بہتری کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں جعلی عامل، جادوگر اور نام نہاد روحانی ماہرین لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق خود کو جادوگر، نجومی یا چڑیل کہنے والے افراد سوشل میڈیا پر مختلف مشکوک خدمات کی تشہیر کر رہے ہیں۔ ان میں گاڑی کے ایندھن کی کھپت کم کرنے یا عام معیار کے پیٹرول کو مبینہ طور پر روحانی عملیات کے ذریعے اعلیٰ معیار کے پیٹرول میں تبدیل کرنے جیسے دعوے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایندھن کا بحران، روسی ڈرائیورز گاڑیوں میں فیول ٹیبز استعمال کرنے لگے
ان کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی زیادہ ایندھن استعمال کر رہی ہے تو اس کی وجہ لازماً کوئی فنی خرابی نہیں بلکہ کسی کا کیا ہوا جادو، منفی توانائی یا گاڑی میں رکھی گئی کوئی پراسرار چیز ہوسکتی ہے وہ لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مکینک سے رجوع کرنے کے بجائے ان سے مخصوص روحانی رسومات کروائیں جو صرف وہی انجام دے سکتے ہیںاور اس کے بدلے میں تقریباً 16,000 روبل (تقریباً 210 امریکی ڈالر) تک فیس وصول کر رہے ہیں۔
ایک جادوگرنی نے ایک گاہک کو بتایا کہ اس کی گاڑی کے فیول ٹینک پر جادو کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی معمول سے زیادہ ایندھن استعمال کر رہی ہے اس نے یہ بھی پیشکش کی کہ وہ 16,000 روبل کے عوض روحانی طریقے سے اس “لعنت” کو ختم کر سکتی ہے۔
بعض روحانی عملیات کرنے والے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ پیٹرول کی خصوصیات تبدیل کر سکتے ہیں، مثلاً AI-92 گریڈ کے پیٹرول کو AI-100 میں بدل سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کا آکٹین نمبر اس کی کیمیائی ساخت پر منحصر ہوتا ہے، جسے نہ کسی منتر، نہ کسی رسم، اور نہ ہی گاڑی پر کوئی علامت بنانے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایسی مبینہ “فیول گولیوں” کی خبر سامنے آئی تھی جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ گاڑی کی ایندھن کی کھپت کم کرتی ہیں۔ تاہم ان کی افادیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں حالانکہ روس میں یہ گولیاں بعض پٹرول پمپوں پر بھی فروخت کی جا رہی ہیں۔




















