حیدرآباد: حیدرآباد تعلیمی بورڈ کو تاحال مستقل چیئرمین نہ مل سکا، جس کے باعث بورڈ ایک بار پھر ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے جبکہ امتحانی نتائج میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومت سندھ نے حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کا اضافی چارج ایک مرتبہ پھر تبدیل کر دیا ہے۔
یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو کو حیدرآباد تعلیمی بورڈ کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت نواب شاہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر آصف علی میمن سے حیدرآباد بورڈ کا اضافی چارج واپس لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق چیئرمین ڈاکٹر شجاع مہیسر کے استعفے کے بعد حیدرآباد بورڈ میں دوسری مرتبہ اضافی چارج تبدیل کیا گیا ہے تاہم مستقل چیئرمین کی تقرری تاحال نہیں ہو سکی۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق بار بار انتظامی تبدیلیوں کے باعث بورڈ کے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ رواں سال بھی امتحانی نتائج کے بروقت اجرا میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
تعلیمی حلقوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے لیے فوری طور پر مستقل چیئرمین تعینات کیا جائے تاکہ بورڈ کے انتظامی امور بہتر انداز میں چلائے جا سکیں اور طلبہ کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


















