جاپان کے سائنس دانوں نے جاپانی ’’ٹری فروگ‘‘ یعنی مینڈک کی وہ قسم جو اپنی زندگی کا زیادہ وقت درختوں پر گزارتی ہے کی آنتوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی بیکٹیریا ایوینگیلا امریکانہ پر تحقیق کی جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جب اس بیکٹیریا کی صرف ایک خوراک رگ کے ذریعے بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا چوہوں کو دی گئی تو ان کے تمام ٹیومر مکمل طور پر ختم ہوگئے۔ اس بیکٹیریا نے بعض معروف کینسر ادویات سے بھی بہتر نتائج دکھائے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ بیکٹیریا دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ ایک تو یہ براہِ راست ٹیومر کے اندر جا کر کینسر کے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ ٹیومر کے اندر آکسیجن کم ہوتی ہے جو اس بیکٹیریا کی افزائش کے لیے موزوں ماحول ہے۔ دوسرا یہ جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے جس سے دفاعی خلیات کینسر پر حملہ کر کے اسے ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ بیکٹیریا تقریباً صرف ٹیومر کے اندر ہی جمع ہوا اور جسم کے صحت مند اعضا جیسے جگر، دل، گردوں اور پھیپھڑوں میں نہیں پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مضر اثرات بھی بہت کم رہے۔ معمولی سوزش ضرور ہوئی لیکن وہ چند دن میں خود ہی ختم ہوگئی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف چوہوں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں اس لیے ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہی علاج انسانوں میں بھی اسی طرح کامیاب ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مزید تحقیق اور انسانی آزمائشیں (کلینیکل ٹرائلز) ضروری ہے۔
محققین اب یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ طریقہ چھاتی کے کینسر، لبلبے کے کینسر اور جلد کے کینسر (میلانوما) سمیت دیگر اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آئندہ تحقیقات بھی کامیاب رہیں تو یہ طریقہ مستقبل میں کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی امید بن سکتا ہے۔




















