Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب، سمندر میں تیرتا اور آسمانوں میں اڑنے والا روبوٹ تیار

امریکی کمپنی نے اس روبوٹ کی ابتدائی قیمت 3 سو ڈالر رکھی ہے

امریکی ادارہ ایم آئی ٹی نے روبوٹکس کی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت کرتے ہوئے ایسا روبوٹ تیار کرلیا ہے جو نہ صرف ہوا میں پرواز کرسکتا ہے بلکہ پانی کے اندر بھی تیر سکتا ہے۔

ایم آئی ٹی  کی ایک ٹیم نے صرف 300 ڈالر لاگت والا ہلکا پھلکا روبوٹ بنایا ہے، جسے مستقبل میں سمندروں کی نگرانی اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ منفرد روبوٹ دوسرے پرندوں کی بجائے غوطہ خور پرندوں جیسے پیٹرلز اور پفن سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے، جو اپنے پروں کی مدد سے ہوا اور پانی دونوں میں حرکت کرتے ہیں۔

اس روبوٹ کو بنانے والی ٹیم نے پرندوں کے پروں کی حرکت، پانی اور ہوا میں رفتار اور توانائی کے استعمال کا تفصیلی مطالعہ کیا، جس کے بعد 250 گرام وزنی Flapping Aerial-Aquatic Vehicle (FAAV) تیار کیا گیا۔

روبوٹ میں بیٹری سے چلنے والی موٹر، نائلون کے پر اور پانی سے محفوظ رکھنے والی خصوصی کوٹنگ استعمال کی گئی ہے۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق پانی ہوا کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ کثیف ہوتا ہے اس لیے ایسا روبوٹ بنانا آسان نہیں تھا۔ ٹیم نے پرندوں کے پروں کی نقل کرنے کے بجائے ایک ایسا لچکدار ڈیزائن بنایا جو پانی میں کم مزاحمت کے ساتھ حرکت کرسکے۔

روبوٹ کے خالق رافیل زفیری کا کہنا ہے کہ ماضی میں غوطہ خور پرندوں کے مطالعے پر تحقیق تو موجود تھی لیکن پہلی بار اس تحقیق کو ایک مکمل حرکت کرنے والے روبوٹ میں تبدیل کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ روبوٹ سمندری آلودگی کی نگرانی، سمندری حیات کے تحفظ اور دور دراز علاقوں میں تحقیق کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔