نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری صرف منہ تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ مستقبل میں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے بڑھتے ہوئے خطرے کی بھی نشاندہی کرسکتی ہے۔
معروف طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں 16 ممالک کے 3 لاکھ سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جس کے مطابق جن افراد کو مسوڑھوں کی شدید بیماری لاحق تھی تو ان میں بعد ازاں ذیابیطس کی تشخیص ہونے کا امکان 18 سے 25 فیصد زیادہ تھا۔
تحقیق کے مطابق جن افراد کے تمام دانت پہلے ہی گرچکے تھے، ان میں ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 30 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب پہلے سے ذیابیطس میں مبتلا افراد میں بعد میں مسوڑھوں کی بیماری اور دانت گرنے کے امکانات بھی زیادہ پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کے دوران ہونے والی مسلسل سوزش جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ نقصان زدہ مسوڑھوں کے ذریعے جراثیم اور سوزش پیدا کرنے والے اجزا خون میں شامل ہوکر جسم میں شوگر کو قابو میں رکھنے والے نظام کو متاثر کرسکتے ہیں جس سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب خون میں شوگر کی مسلسل زیادہ مقدار جسم کی مدافعتی صلاحیت اور زخم بھرنے کے عمل کو کمزور کردیتی ہے جس کے باعث ذیابیطس کے مریض مسوڑھوں کی بیماری کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہے تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسوڑھوں کی بیماری براہِ راست ذیابیطس کا سبب بنتی ہے۔ اس تعلق کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے مسوڑھے بار بار خون چھوڑتے ہوں، سوجن کا شکار ہوں یا پیچھے ہٹ رہے ہوں تو اسے اس مسئلے کو نظر انداز کرنے کے بجائے ڈاکٹرز سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ مستقبل میں صحت سے متعلق اہم خطرات کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے۔



















