ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ملکی عسکری قیادت میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے مسلح افواج، پاسداران انقلاب اور بسیج فورس میں 6 اعلیٰ عہدوں پر نئی تقرریاں کردی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا نیا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ تقرری ان کے پیش رو میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کی شہادت کے بعد کی گئی، جن کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے علی عبداللہی کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے ان کی سابقہ خدمات، تجربے اور صلاحیتوں کو سراہا جبکہ مسلح افواج کی دفاعی اور سیکیورٹی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سپریم لیڈر نے بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے طور پر بھی مقرر کیا ہے۔ انہیں دفاعی استعداد میں اضافے، فوجی اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور عسکری بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
دوسری جانب بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو ترقی دے کر میجر جنرل کے عہدے پر فائز کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کا نیا کمانڈر انچیف مقرر کردیا گیا ہے۔ وہ سابق کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے احمد وحیدی کو ہدایت کی کہ وہ آئی آر جی سی کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، زیادہ سے زیادہ دفاعی قوت برقرار رکھیں اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے تیار رہیں۔ میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی کو آئی آر جی سی کا نائب کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے ریئر ایڈمرل علی عظمیٰ کو نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جو ریئر ایڈمرل علیرضا تنگسیری کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس کے علاوہ حجۃ الاسلام حسین طائب کو بسیج آرگنائزیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ حسین طائب اس سے قبل پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں اور 2022 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ نئی تقرریوں کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری نظام کو فعال رکھنا ہے۔




















