چین کی زیرقیادت تحقیقی ٹیم نے ایک نئی قسم کی وژن چپ تیار کی ہے جو روشنی کو براہ راست ٹوکنز میں تبدیل کرتی ہے، یوں متعدد ایسے پروسیسنگ مراحل کو نظرانداز کردیتی ہے جو عموماً توانائی صرف کرتے اور کارکرگی کو سست بناتے ہیں۔
نان جنگ یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی یہ مشترکہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر سینسرز میں شائع ہوئی ہے۔
روایتی سینسرز، جو پہلے روشنی کو حاصل کرتے ہیں اور پھر ٹوکنز تیار کرنے سے قبل ڈیٹا کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل، بفر اورمنتقل کرتے ہیں، کے برعکس نئی ڈیوائس یہ تبدیلی فزیکل ڈومین میں انجام دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے انسانی بال سے پتلی اور لچکدار سیمی کنڈکٹر چپ تیار کرلی
اس میں خصوصی پکسلز کی ایک صف شامل ہے، جن میں سے ہر پکسل بیک وقت روشنی کو محسوس کرنے، ڈیٹا کو مقامی طورپر محفوظ کرنے اور حسابی عمل انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، چپ کے اطراف میں موجود سرکٹس کسی تصویرکوبلاکس میں تقسیم کرنے کے لیے پکسلز کے مخصوص حصوں کو منتخب کر کے فعال کرسکتے ہیں۔
ہر منتخب بلاک کے لیے وولٹیج کی ایک مخصوص ترتیب لاگو کی جاتی ہے جس سے محفوظ شدہ بصری معلوموت اینالاگ ڈومین میں براہ راست ریاضیاتی عمل انجام دیتی ہیں، جبکہ حاصل ہونے والا کرنٹ ٹوکن کے طور پر کام کرتا ہے۔
نان جنگ یونیورسٹی کے پروفیسر لیانگ شی جون نے کہا کہ ’’چپ ڈیٹا کی منتقلی کو فزیکل طورپر ختم کردیتی ہے، جو توانائی کے ضیاع کا بنیادی ذریعہ ہے، روشنی اندر آتی ہے اور ٹوکنز باہر جاتے ہیں۔
لیانگ نے کہا کہ فزیکل ٹوکنائزیشن کے طور پر بیان کیے جانے والے اس طریقہ کار کے ذریعے چپ ایک غیر فعال تصویریریکارڈ سے ایک فعال بصری معنوی جنریٹر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تجربات میں اس چپ کو استعمال کرنے والے ایک نظام نے تصویر کی شناخت میں 87.3 فیصد درستگی حاصل کی جو روایتی سافٹ ویئر پر مبنی نظاموں کی کارکردگی کے قریب ہے جبکہ ٹوکنائزیشن کے مرحلے کے دوران توانائی کی کارکردگی میں 10 گنا سے زیادہ بہتری آئی۔




















