امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک بڑی اور فیصلہ کن اقتصادی کارروائی شروع کرنے جا رہا ہے جسے انہوں نے کسی دشمن ملک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی معاشی مہم قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی معیشت کو سہارا دینے والے اہم اقتصادی راستوں کو نشانہ بنائے گا جبکہ تہران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک اور ادارے بھی ممکنہ طور پر امریکی اقدامات کی زد میں آسکتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت ایران کے خلاف دباؤ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ امریکی حکومت اپنے تمام قانونی اختیارات اور دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر معاشی دباؤ مزید بڑھائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران طویل عرصے سے سیکیورٹی ضمانتوں اور ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات کے باعث دباؤ سے بچتا رہا تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں یہ صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی جن کا مقصد ایرانی حکومت پر شدید معاشی دباؤ ڈالنا اور اس کی مالی معاونت کے اہم ذرائع کو محدود کرنا ہے۔



















