Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیپال میں قدرت کا قہر، قیامت خیز سیلاب میں 95 ہلاک سیکڑوں لاپتہ، لرزہ خیز ویڈیوز وائرل

ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں

نیپال اور چین کی سرحد پر اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، کم از کم 95 افراد ہلاک اور سیکڑوں سیاحوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ چین کے تبت میں بھی بڑے جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

نیپال اور چین کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب نے کئی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے۔

سیلابی ریلے کی ویڈیوز میں پانی کا خوفناک طوفان سرحدی علاقوں میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

چین کے علاقے تبت میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شدید نقصان ہوا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ گیئرونگ پورٹ میں مٹی کا تودا گرنے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے متاثرین کی تلاش اور امداد کے لیے بھرپور کارروائی کی ہدایت کردی۔

نیپال کے وزیر خارجہ کے مطابق زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس سے دریا کا راستہ بند ہوگیا اور اچانک پانی کا ایک خوفناک ریلا نشیبی علاقوں کی جانب بہہ نکلا۔

ماہرین کے مطابق برف، چٹانوں اور مٹی کے بڑے تودے کے دریا میں گرنے سے بھوٹیکوشی دریا کا راستہ عارضی طور پر بند ہوا جس کے بعد پانی کے اچانک اخراج نے نیچے آباد علاقوں میں تباہی مچادی۔

ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر پھنسے افراد کو نکالا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اسکیڈنگ ڈیزاسٹر ہوسکتا ہے، یعنی بلند پہاڑی علاقوں میں ہونے والا واقعہ چند ہی لمحوں میں نشیبی آبادیوں میں تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بھی ایسے واقعات کی شدت میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ تیزی سے گرم ہوتے ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور پہاڑی ڈھانچے کے غیر مستحکم ہونے سے برفانی تودوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں