راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی کنوینئر ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے حنا جاوید کے گھر جاکر اہلخانہ سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ وفد میں ارکان قومی اسمبلی ہما چغتائی، تمکین نیازی اور زرا ووڈ فاطمی سمیت دیگر شامل تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ حنا جاوید کا قتل انتہائی دردناک واقعہ ہے، اہلخانہ کے ساتھ تعزیت کی ہے اور ان کی تکلیف کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ادارے قائم کیے جاتے ہیں اور قانون سازی بھی ہوتی ہے لیکن عملی طور پر کام صفر نظر آتا ہے۔ گھریلو تشدد اور زیادتی کے واقعات پر آواز اٹھائی جاتی ہے تاہم متعلقہ محکموں کے افسران کی کارکردگی مؤثر نظر نہیں آتی۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کا کہنا تھا کہ افسران کو ترقیاں بھی چاہیے لیکن انہیں اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنی چاہیے، اداروں کی ناقص کارکردگی ہی کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن سے بھی سوال ہے کہ یونیورسٹی میں پڑھانے والا شخص کس طرح یونیورسٹی میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ حنا جاوید پر جس طرح تشدد کیا گیا وہ ناقابل فراموش ہے اور ہر شخص اس واقعے کی مذمت کرتا ہے۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے بتایا کہ پارلیمانی وفد پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہے تاہم حنا جاوید کے اہلخانہ کو بعض تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حنا کے سسر خود تھانے گئے اور مبینہ طور پر جھوٹ بولا تو پھر انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
رکن قومی اسمبلی ہما چغتائی نے کہا کہ کیس میں یہ بات سامنے آئی کہ سسرال والوں نے چوری ہونے کا مؤقف اختیار کیا جس پر پولیس نے اپنا مؤقف اختیار کیا تاہم کمزور استغاثہ کی وجہ سے مقدمات میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ہما چغتائی کا کہنا تھا کہ اگر پورے نظام کی بات کی جائے تو استغاثہ واقعی کمزور ہے، ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا، جہاں خلع لے کر گھر آنے والی ایک لڑکی کو اس کے والد نے قتل کردیا۔ ہمیں معاشرے میں موجود اس ذہنیت کو تبدیل کرنا ہوگا اور خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کے تحفظ کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔
حنا جاوید کی کزن صبا بانو نے کہا کہ حنا کے ساتھ بہت ظلم ہوا، اس کے سسر سے لازمی تفتیش ہونی چاہیے۔ میڈیا اس معاملے میں بہت اچھا کام کر رہا ہے اور میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ حنا جاوید کے اہلخانہ کی حمایت جاری رکھے۔
















