تائیوان میں کورونا وائرس کی نئی لہر شدت اختیار کرنے لگی، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا سے 14 افراد ہلاک جبکہ 72 مریضوں کی حالت تشویشناک رپورٹ ہوئی ہے، جو موجودہ لہر کے دوران ایک ہفتے میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
تائیوان کے محکمہ صحت کے مطابق 2 سے 8 اگست کے دوران کورونا سے متعلق اسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ اور ایمرجنسی شعبوں میں 24 ہزار 645 افراد نے رجوع کیا، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 27.6 فیصد زیادہ ہے۔
تائیوان میں گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک کورونا کے 337 ایسے مقامی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جبکہ ان میں سے 42 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ کورونا لہر اگست کے وسط سے آخر تک عروج پر پہنچنے کا امکان ہے تاہم ہفتہ وار طبی معائنے کے کیسز کا اندازہ 51 ہزار سے کم کرکے 27 ہزار کردیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی شدید پیچیدگیوں کا شکار ہونے والے 73.9 فیصد مریضوں کی عمر 65 سال یا اس سے زائد تھی، جبکہ 84 فیصد مریض پہلے سے مختلف دائمی بیماریوں میں مبتلا تھے۔
حکام نے بتایا کہ شدید کیسز میں تقریباً 90 فیصد افراد نے کورونا ویکسین کی تازہ ترین موسمی خوراک نہیں لگوائی تھی۔
تائیوان میں کورونا ویکسین کی تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار خوراکیں ذخیرہ میں موجود ہیں، جن میں سے 37 ہزار خوراکیں 9 ستمبر کو زائد المیعاد ہونے والی ہیں اور انہیں اس سے قبل مقامی حکومتوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر حصوں میں بھی کورونا دوبارہ پھیلنے لگا ہے، یورپ اور افریقا کے بعض علاقوں میں مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان میں بھی کورونا انفیکشنز بڑھ رہے ہیں۔



















