ایک انتہائی منفرد تحقیق میں معمولی بلند بلڈ پریشر یا ابتدائی درجے کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد میں پودینے کے تیل کے استعمال سے بلڈ پریشر میں کمی کے ممکنہ شواہد سامنے آئے ہیں۔
یونیورسٹی آف لنکاشائر کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 18 سے 65 سال کی عمر کے 40 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ شرکا کو تصادفی طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ کو پودینے کے تیل کی کم مقدار جبکہ دوسرے کو پودینے کے ذائقے والی پلیسبو دوا دی گئی۔

20 روزہ تجربے میں بلڈ پریشر میں کمی
شرکا نے 20 روز تک دن میں دو مرتبہ مقررہ مقدار میں پودینے کا تیل یا پلیسبو استعمال کیا۔ محققین نے بنیادی طور پر سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی بلڈ پریشر کی اوپری ریڈنگ، میں ہونے والی تبدیلی کا جائزہ لیا۔
نتائج کے مطابق پودینے کا تیل استعمال کرنے والے افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر میں اوسطاً 8.48 ملی میٹر مرکری (mmHg) کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلیسبو گروپ میں ایسی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
محققین نے بلڈ پریشر کے علاوہ شرکا کے جسمانی پیمائش، خون کے ٹیسٹ، ڈائسٹولک بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، ذہنی صحت اور نیند کے معیار سمیت دیگر اشاریوں کا بھی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: صرف دو ہفتوں میں بلڈ پریشر میں کمی، چقندر کے جوس کے اہم فوائد سامنے آگئے
پودینے کے قدرتی مرکبات توجہ کا مرکز
پودینے میں مینتھول اور فلیونوئڈز سمیت مختلف قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ انہی مرکبات کی ممکنہ حیاتیاتی خصوصیات نے انہیں بلڈ پریشر پر پودینے کے تیل کے اثرات کا جائزہ لینے پر آمادہ کیا۔
اسپورٹس اینڈ ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر جونی سنکلیر نے نتائج کو ’’انتہائی مثبت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ممکنہ طبی اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی جانب سے احتیاط بھی ضروری
تحقیق کے نتائج اگرچہ حوصلہ افزا ہیں، تاہم صرف 40 افراد اور 20 روزہ مدت پر مشتمل اس محدود مطالعے کی بنیاد پر پودینے کے تیل کو ہائی بلڈ پریشر کے باقاعدہ علاج کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی تجویز کردہ ادویات بند کرنے یا ان کی جگہ پودینے کا تیل استعمال کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ مزید بڑے اور طویل مدتی مطالعات سے یہ جانچنا ضروری ہوگا کہ پودینے کے تیل کے یہ اثرات مستقل رہتے ہیں یا نہیں۔
تحقیق کے مرکزی محقق کے مطابق پودینے کا تیل کم لاگت والا اور کم کیلوریز کا حامل ہونے کے باعث مستقبل میں بلڈ پریشر کے انتظام کے لیے ایک سادہ اور کم خرچ معاون طریقہ بن سکتا ہے، تاہم اس امکان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔




















