اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک اور نتیجہ خیز قیادت میں اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
اس مہم کا مقصد سرکاری اراضی و املاک کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانا، شہری نظم و ضبط بحال کرنا اور اسلام آباد کو صاف، سرسبز، محفوظ، خوبصورت، ماحول دوست اور سیاحت دوست ماڈل دارالحکومت بنانا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی قیادت اور ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کی نگرانی میں سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی ٹیمیں مربوط انداز میں انسدادِ تجاوزات آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔
اس ’’ہول آف گورنمنٹ اپروچ‘‘ کے تحت مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے سے کارروائی، نگرانی اور فالو اَپ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت غیر قانونی تعمیرات، تجارتی توسیعات، کھوکھوں اور سڑک کنارے اسٹالز، گرین بیلٹس، فٹ پاتھوں، سرکاری اراضی اور رہائشی املاک کے غیر قانونی تجارتی استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
سیدپور ولیج، نورپور شاہاں، اسلام آباد ایکسپریس وے اور ترنول سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم، قیمتی سرکاری اراضی واگزار اور عوامی گزرگاہیں بحال ہوئی ہیں۔ بازاروں، رہائشی سیکٹرز، سروس روڈز اور گرین بیلٹس میں بھی آپریشن جاری ہے۔
مہم کے دوران ہزاروں کنال سرکاری اراضی، املاک اور تجارتی اثاثے، جن کی مالیت اربوں روپے ہے، واگزار کرائے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک کی روانی، پیدل گزرگاہوں، گرین بیلٹس، پارکس اور مجموعی شہری ماحول میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
انسدادِ تجاوزات مہم کو عوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ شفاف، مسلسل اور بلاامتیاز کارروائیوں کو مؤثر گورننس اور قانون کی یکساں عملداری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے جب کہ ’’ویلڈن محسن نقوی‘‘ کے تاثرات عوامی سطح پر سامنے آرہے ہیں۔
’’محسن اسپیڈ‘‘ تیز رفتار اور نتیجہ خیز گورننس کی علامت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ موجودہ رفتار اور تسلسل برقرار رہا تو اسلام آباد ایک تجاوزات سے پاک، صاف، سرسبز، محفوظ، پائیدار، خوبصورت اور دنیا کے مثالی ماڈل دارالحکومت کے طور پر مزید نمایاں ہوگا۔
انسدادِ تجاوزات مہم نہ صرف اسلام آباد کی خوبصورتی اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ اچھی حکمرانی، قانون کے بلاامتیاز نفاذ، سرکاری اراضی کے تحفظ اور شہری و دیہی ترقی کے حوالے سے پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید قومی ماڈل بھی بن سکتی ہے۔

















