Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دردکش دوا کی زائد مقدار کو زائل کرنے والا سمجھدار پیچ تیار

آئی نیل پیچ نامی اس انقلابی پیچ کو ورجینیا ٹیک کے محققین نے تیار کیا ہے

دنیا بھر لوگوں کی بڑی تعداد درد کش ادویات استعمال کرتی ہیں تاہم اس کی زائد مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے تاہم اس اب اس مسئلے حل تلاش کرلیا گیا ہے۔ 

سائنس دانوں نے ایک بہت ہی چھوٹا سا پہننے والا پیچ تیار کیا ہے جو نہ صرف جسم میں خطرناک مقدار میں فینٹینائل نامی درد کش دوا پہنچنے کا پتہ لگا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر خود ہی نالوکسون نامی دوا جسم میں پہنچا سکتا ہے۔ نالوکسون اوپیئڈ کی اوور ڈوز کے اثرات کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 خیال رہے کہ فینٹینائل  ایک مصنوعی اوپیئڈ دوا ہے جو شدید قسم کے درد کو کم کرنے اور بے ہوشی  کے لیے استعمال کی جاتی ہے اسے عام طور پر “مصنوعی نشہ آور یا درد کش دوا” کہا جاتا ہے۔

یہ ڈیوائس ایک چھوٹے سکے سے بھی چھوٹی ہے۔ اس کا مقصد خاص طور پر ایسی اوور ڈوز میں مدد کرنا ہے جس وقت متاثرہ شخص کے آس پاس کوئی دوسرا فرد موجود نہ ہو۔

آئی نیل پیچ نامی اس انقلابی پیچ کو ورجینیا ٹیک کے محققین نے تیار کیا ہے۔ اس حیرت انگیز پیچ میں انتہائی باریک 121 سوئیاں ہیں جو جلد کے بالکل نیچے موجود مائع تک پہنچتی ہیں۔ کیونکہ یہ سوئیاں جلد کی بہت کم گہرائی تک جاتی ہیں اس لیے اس سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحت کی نگرانی کرنے والے سینسرز کے لیے نیا”بریتھ ایبل” ہائیڈروجیل تیار

پیچ کے اندر نالوکسون دوا موجود ہوتی ہے۔ جب جسم میں فینٹانائل کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے تو یہ پیچ نہایت سمجھ داری سے  اسے محسوس کر کے نالوکسون خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر فینٹینائل کی مقدار زیادہ ہو تو پیچ زیادہ نالوکسون خارج کرتا ہے۔ اس میں کچھ دوا محفوظ بھی رہتی ہے تاکہ اگر بعد میں فینٹینائل کی مقدار دوبارہ بڑھ جائے تو پیچ دوبارہ دوا جاری کر سکے۔

محققین نے پہلے لیبارٹری میں اس پیچ کا تجربہ کیا۔ نتائج میں دیکھا گیا کہ فینٹانائل کی موجودگی میں پیچ چند منٹوں کے اندر نالوکسون خارج کرنے لگا اور یہ عمل 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا تھا۔

اس کے بعد چوہوں پر تجربہ کیا گیا۔ جن چوہوں کو فینٹانائل دیا گیا اور ان پر یہ پیچ لگایا گیا ان میں اوور ڈوز کی علامات نمایاں طور پر کم تھیں۔ پیچ نے فینٹانائل کے کم از کم تین الگ الگ اثرات کے دوران بھی نالوکسون خارج کیا۔

محققین کے مطابق یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ فینٹینائل کا اثر بعض اوقات نالوکسون سے زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔ اس لیے پہلی خوراک کا اثر ختم ہونے کے بعد اوور ڈوز کی علامات دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ پیچ ایسی صورت میں دوبارہ نالوکسون جاری کر سکتا ہے۔

ابھی اس پیچ کو انسانوں پر عام استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔ اور اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مختلف افراد کی جلد پر کتنی اچھی طرح کام کرتا ہے، طویل عرصے تک کتنا قابلِ اعتماد رہتا ہے اور مختلف اوپیئڈز کے درمیان کس حد تک درست طریقے سے فرق کر سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی میں تبدیلی کرکے اسے دوسرے اوپیئڈز کا پتہ لگانے یا ان کے اثرات ختم کرنے والی دوسری ادویات پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔