جنوب مشرقی ایشیا میں سائنسدانوں نے ڈائناسور کی ایک نئی اور انتہائی بڑی نسل دریافت کی ہے جو اپنے دور کا ایک دیو قامت جانور تھا اور تقریباً نو ہاتھیوں کے برابر وزن رکھتا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ڈائناسور تقریباً ایک کروڑ سال سے زائد پرانی کریٹیشیئس دور کی ابتدائی مدت میں زمین پر موجود تھا۔ اسے لمبی گردن اور لمبی دم والا پودے کھانے والا دیو قامت جانور قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس ڈائناسور کی لمبائی تقریباً ستائیس میٹر تک تھی جب کہ اس کا وزن تقریباً اٹھائیس ٹن تک پہنچ سکتا تھا جو اسے جنوب مشرقی ایشیا میں اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائناسور بناتا ہے۔
ماہرین نے اسے خطے کی قدیم اساطیری مخلوق سے متاثر ہوکر ایک خاص نام دیا ہے جس کا تعلق تھائی لینڈ کے اس علاقے سے بھی ہے جہاں اس کے فوسل دریافت ہوئے۔ یہ باقیات 2016 میں ایک خشک تالاب کے کنارے سے ملی تھیں۔
تحقیق میں شامل سائنسدانوں کے مطابق اس ڈائناسور کے فوسلز میں ریڑھ کی ہڈی کے حصے، پسلیاں، کولہے کی ہڈیاں اور بازو و ٹانگوں کی کچھ ہڈیاں شامل ہیں جن کی مدد سے اس کی ساخت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ماہرین نے جدید تھری ڈی اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ان ہڈیوں کا مطالعہ کیا جس سے یہ ممکن ہوا کہ مختلف ممالک میں بیٹھ کر بھی اس پر تحقیق کی جاسکے اور اس کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈائناسور ایک ایسے خطے میں رہتا تھا جہاں دریا، جنگلات اور مختلف آبی حیات موجود تھیں اور یہ اپنی لمبی گردن کی مدد سے پانی اور پودے آسانی سے حاصل کرتا تھا۔
ماہرین کے مطابق بعد کے ادوار میں اس خطے میں بڑی جغرافیائی تبدیلیاں آئیں اور زمین کا زیادہ تر حصہ سمندر میں تبدیل ہوگیا جس کے بعد یہاں ڈائناسورز کا وجود ختم ہونا شروع ہوگیا۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف جنوب مشرقی ایشیا میں ڈائناسورز کی تاریخ کو سمجھنے میں اہم پیشرفت ہے بلکہ یہ اس خطے میں ملنے والا آخری بڑا ڈائناسور بھی ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس دریافت کو اپنی زندگی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قدیم زمین اور اس کے ماحول کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی۔




















