ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک نئی تحقیق میں تصدیق کی ہے کہ کروڑوں سال قبل زمین پر ایک ایسا دیوہیکل بچھو موجود تھا جس کی لمبائی ایک میٹر سے زائد تھی اور اسے اب تک دریافت ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا بچھو قرار دیا جارہا ہے۔
برطانیہ میں دریافت ہونے والے اس قدیم جانور کی باقیات پہلی بار 1870 میں ملی تھیں تاہم اس کی اصل شناخت پر طویل عرصے سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ جدید تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بعد سائنس دانوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ واقعی ایک بچھو تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ بچھو تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال قبل اس دور میں موجود تھا جب زمین پر زندگی ابتدائی مراحل میں تھی اور خشکی پر صرف چھوٹے پودے اور فنگس پائے جاتے تھے جب کہ بڑے جانور ابھی سمندروں سے باہر نہیں آئے تھے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس بچھو کے پنجے تقریباً 16 سینٹی میٹر لمبے تھے جو آج کے بہت سے بچھوؤں کے پورے جسم سے بھی زیادہ لمبائی رکھتے تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس دور میں بڑے شکاری جانوروں کی کمی کے باعث یہ بچھو اپنے ماحول پر غالب تھا اور اسی وجہ سے غیر معمولی جسامت اختیار کرسکا۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ بچھو خشکی پر رہتا تھا لیکن اس کے جسمانی خدوخال سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا کچھ حصہ پانی میں بھی گزارتا تھا اور وہاں شکار کرتا تھا۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد کے ادوار میں جب زمین پر جنگلات اور مختلف جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو شکار کے لیے مقابلہ بھی بڑھ گیا جس کے باعث یہ دیوہیکل بچھو بالآخر زمین سے ناپید ہوگیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے جانوروں کے سمندر سے خشکی پر منتقل ہونے اور ارتقائی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی جب کہ موجودہ دور کے بچھوؤں کی تاریخ کے بارے میں بھی نئی معلومات حاصل ہوں گی۔




















