برطانیہ میں پیش کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہماری کہکشاں اربوں برس قبل بتدریج اپنی موجودہ سمت سے 90 درجے سے زیادہ جھک گئی تھی۔
برطانیہ میں فلکیات سے متعلق قومی اجلاس میں پیش کی گئی نئی تحقیق کے مطابق ہماری کہکشاں ماضی میں ایک غیرمعمولی تبدیلی سے گزری اور اربوں برس کے دوران اپنی سمت آہستہ آہستہ بدلتی رہی۔
ماہرین نے مختلف کمپیوٹر نمونوں کی مدد سے ایسی کئی کہکشاؤں کا جائزہ لیا جو ساخت کے لحاظ سے ہماری کہکشاں سے ملتی جلتی تھیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن کہکشاؤں کا ماضی میں چھوٹی کہکشاؤں سے بڑا تصادم ہوا تو ان کی بیرونی ستاروں والی پرت کی گردش معمول سے کہیں زیادہ سست ہوگئی۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 10 ارب برس قبل ہماری کہکشاں ایک چھوٹی کہکشاں سے ٹکرائی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسی تصادم کی کششِ ثقل نے ہماری کہکشاں کو بتدریج اس قدر جھکادیا کہ اس کی سمت میں 90 درجے سے زیادہ تبدیلی آگئی۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کہکشاں الٹ گئی تھی بلکہ وہ آہستہ آہستہ ایک طرف جھکتی رہی، یہاں تک کہ اس کی سمت نمایاں طور پر تبدیل ہوگئی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی اس عمل کو اربوں برس تک دیکھ سکتا تو رات کے آسمان کا منظر مکمل طور پر بدل جاتا، ستاروں کی نئی ترتیب بنتی اور آج کے معروف جھرمٹ اپنی موجودہ شکل میں نظر نہ آتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نظریے کی مزید تصدیق درکار ہے تاہم یہ تحقیق ہماری کہکشاں کی کئی پراسرار خصوصیات کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔




















