ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو تقریباً 2,000 سال پرانے ایک ایسے کھیل کے بارے میں نئی معلومات ملی ہیں جو ایک زمانے میں لاکھوں افراد کھیلتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔
محققین کو ملنے والے نئے شواہد سے اس قدیم کھیل کے قواعد، کھیلنے کے انداز اور اس کی سماجی اہمیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان دریافتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ مختلف تہذیبوں میں ثقافتی اور سماجی زندگی کا بھی ایک اہم حصہ تھا۔
اگرچہ یہ کھیل کئی صدیوں تک بے حد مقبول رہا لیکن بدلتے ہوئے معاشرتی حالات، نئی روایات اور دیگر کھیلوں کی مقبولیت کے باعث آہستہ آہستہ لوگوں کی زندگی سے غائب ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپر ٹاول پر حقیقت سے قریب تر فن پارے تخلیق کرنے والی حیرت انگیز مصورہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دریافتیں اس قدیم کھیل کی تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گی اور ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کے اصل قواعد اور کھیلنے کا مکمل طریقہ بھی دوبارہ معلوم ہو سکے۔
تقریباً 2,000 سال پرانے گیم بورڈز کی دریافت نے مؤرخین کو ایک ایسے قدیم کھیل کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں جو شطرنج سے ملتا جلتا تھا اور جدید شطرنج کی ایجاد سے تقریباً 500 سال پہلے کھیلا جاتا تھا۔ یہ کھیل بادشاہوں سے لے کر عام لوگوں تک معاشرے کے ہر طبقے میں بے حد مقبول تھا۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے شمالی چین کے صوبہ شانشی میں ہان خاندان کے مقبروں کی کھدائی کے دوران قدیم “شطرنج نما بورڈ” دریافت کیے جن کی عمر تقریباً دو ہزار سال بتائی جاتی ہے۔
یہ بورڈ لیوبو یا “چھ لاٹھیاں” نامی کھیل کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ کھیل ایک زمانے میں چین بھر میں بے حد مقبول تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے قواعد مکمل طور پر فراموش ہو گئے۔
شانشی صوبائی ادارۂ آثارِ قدیمہ نے بتایا کہ یہ دریافتیں شمال مغربی چین میں ایک ایسے مقام سے ہوئی ہیں جہاں شہری ترقیاتی منصوبہ شروع ہونے والا تھا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ دو افراد کے درمیان کھیلا جانے والا کھیل تھا جس میں 12 مہریں ہوتی تھیں، جن میں چھ سفید اور چھ سیاہ شامل تھیں۔ اس کے علاوہ چھ پھینکنے والی چھڑیاں بھی استعمال کی جاتی تھیں، جو غالباً پاسوں (Dice) کا کام کرتی تھیں یا کھیل کے دوران کسی فیصلے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
بورڈ پر 12 راستے بنے ہوتے تھے اور درمیان میں ایک حصہ “واٹر” کہلاتا تھا۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، اس کھیل میں ہر کھلاڑی کے مہرے پرندوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ یہ پرندے بورڈ پر سفر کرتے ہوئے اُلّو میں تبدیل ہو سکتے تھے اور پھر درمیان میں موجود “تالاب” تک پہنچتے تھے، جہاں صرف اُلّو ہی مچھلی پکڑ سکتا تھا۔

محققین کے مطابق، مچھلی پکڑنے پر کھلاڑی کو پوائنٹس ملتے تھے، اور جو کھلاڑی پہلے چھ پوائنٹس حاصل کر لیتا، وہ فاتح قرار پاتا تھا اندازے کے مطابق ایک کھیل مکمل ہونے میں 10 سے 45 منٹ لگتے تھے۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ وہ اب تک یہ معلوم نہیں کر سکے کہ مہروں کی درست حرکت کیسے ہوتی تھی، لیوبو کی مختلف اقسام کیا تھیں، یا جیتنے کے مکمل اصول کیا تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تانگ خاندان (618ء تا 907ء) کے دور میں اس کھیل کے اصل قواعد ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئے۔
یہ کہانی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر علم اور روایات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل نہ ہوں تو دنیا کے مقبول ترین ثقافتی ورثے بھی وقت کے ساتھ صرف تاریخی باقیات بن کر رہ جاتے ہیں۔




















