انسان اگر ذہنی طور پر تندرست نہ ہوتو وہ گھر میں بھی کسی کی سرپرستی کے بغیر نہیں رہ سکتا تاہم انڈونیشیا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک 49 سالہ ذہنی بیماری میں مبتلا شخص کو تقریباً تین سال بعد ایک پہاڑی جنگل سے زندہ حالت میں ریسکیو کر لیا گیا۔
انڈونیشین میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک 49 سالہ نہایت کمزور اور لاغر شخص کو ماؤنٹ سیلیک کے جنگلات میں مقامی افراد کے ایک گروپ نے اس وقت دیکھا جب وہ شدید بارشوں کے بعد قریبی دریا کے بہاؤ کا جائزہ لے رہے تھے۔ وہ شخص ایک کائی جمی ہوئی چٹان پر بیٹھا تھا اور شدید الجھن کا شکار دکھائی دے رہا تھا۔
ریسکیو کرنے والوں کے مطابق اس شخص کو بولنے میں دشواری کا سامنا تھا اور اس کی جسمانی حالت انتہائی خراب تھی۔ وہ بہت زیادہ کمزور ہو چکا تھا، بمشکل چل سکتا تھا اور دوسرے لوگوں کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا تھا۔ جنگل سے نکالنے کے بعد اسے اسٹریچر پر منتقل کیا گیا اور شناخت کے لیے ایک مقامی انتظامی دفتر لے جایا گیا جہاں اس کے فنگر پرنٹس اور آنکھوں کے اسکین کے ذریعے شناخت کی گئی۔
بعد ازاں اس شخص کی شناخت آیا ای سولیح الدین کے نام سے ہوئی اس کے اہلِ خانہ نے تقریباً تین سال قبل اس کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔
خاندان کے افراد نے بتایا کہ اس کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں تھی اور ایک دن گھر سے نکل کر ماؤنٹ سیلیک کے جنگلات کی طرف چلا گیا تھا جس کے بعد واپس نہیں لوٹا۔
اس کے لاپتہ ہونے کے بعد اہلِ خانہ نے اپنے گاؤں کے اردگرد کے جنگلات میں بارہا تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکا خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بازیابی تک تنہا ہی زندہ رہا۔
یہ واضح نہیں کہ آیا ای سولیح الدین نے ماؤنٹ سیلیک میں کتنا عرصہ گزارا لیکن اس کی انتہائی کمزور جسمانی حالت اور پانی کی کمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک تنہا اور محدود خوراک کے ساتھ زندہ رہا۔
اس کے بہن بھائیوں نے صحافیوں کو بتایا کہ والدین کے انتقال کے بعد اس میں ذہنی مسائل جنم لینے لگے تھے اور وہ اکیلا ہی جنگلوں میں گھومتا رہتا تھا تاہم اس بار وہ گیا تو واپس نہ آیا، یہاں تک کہ تقریباً تین سال بعد اسے زندہ حالت میں ڈھونڈ لیا گیا۔




















