Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انڈونیشیا میں دہشت پھیلانے اور 17 افراد کو زخمی کرنے والے بندر کا ڈرامائی انجام

بندر کی دہشت کی وجہ سے ضلع کے اسکولوں میں تین دن تک آن لائن کلاسیں ہوئیں

انڈونیشیا کے صوبہ ریاؤ  میں کئی ہفتوں سے خوف و ہراس پھیلانے والے ایک جنگلی بندر کو حکام نے پکڑ لیا جس پر 17 افراد کو زخمی کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ خطرناک بندر انڈراگیری ہلیر ریجنسی کے علاقے ٹیمبیلاہان  سے پکڑا گیا جہاں پولیس، فوجی اہلکاروں، فائر فائٹرز اور جنگلی حیات کے حکام پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر جال بچھائے۔

پولیس چیف ڈونی ایکو لسٹیانتو کے مطابق ریاؤ نیچرل ریسورسز کنزرویشن ایجنسی نے ان جگہوں پر تین خصوصی جال نصب کیے تھے جہاں یہ بندر چھپنے کا عادی تھا، اور بالآخر ایک جال میں پھنس گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پکڑا گیا لمبی دم والا مکاک بندر  ممکنہ طور پر ان حملوں میں ملوث ہے جو 25 جولائی سے شروع ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق بندروں کے ایک گروہ کے علاقے میں آنے کے بعد بچوں بزرگوں اور دیگر شہریوں سمیت 17 افراد پر حملے کیے گئے۔ کچھ متاثرین کو زخموں پر ٹانکے بھی لگوانے پڑے۔

حملے اتنے خطرناک ہو گئے تھے کہ انتظامیہ نے طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر ٹیمبیلاہان ضلع کے اسکولوں کو تین دن کے لیے آن لائن تعلیم پر منتقل کرنے کا حکم بھی دیا۔

حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے بندر کی شناخت متاثرین اور عینی شاہدین کی فراہم کردہ معلومات سے ملتی ہے کیونکہ اس کا قد، جارحانہ رویہ اور چہرے پر موجود خاص نشان لوگوں کی بتائی گئی تفصیلات سے مطابقت رکھتا ہے۔

اب جنگلی حیات کے ماہرین اس بندر کا معائنہ کر رہے ہیں تاکہ اس کے رویے اور مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔